فتاة تحمل العلم الفلسطيني في الضفة الغربية - أرشيفية من رويترز

برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے پر خلیجی ممالک کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف سے باضابطہ طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان تین ملکوں نے یہ اعلان دو ریاستی حل کے لیے ہونے والی کانفرنس سے ایک روز قبل کیا۔ سعودی فرانسیسی قیادت کے تحت یہ کانفرنس یو این جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے فریم ورک کے اندر آج پیر کو رہی ہے۔

جاسم البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم انصاف اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے حصول کی طرف ایک اہم تاریخی پیش رفت کا بتا رہا ہے۔ یہ قدم فلسطینی عوام کے اپنے آزاد ریاست کو 4 جون 1967 کی سرحدوں پر اور دارالحکومت مشرقی یروشلم کے ساتھ قائم کرنے کے ناقابل تنسیخ حق کی بھی عکاسی کر رہا ہے۔

جاسم البدیوی نے ان ممالک کے "بہادرانہ موقف" کی تعریف کی ۔ انہوں نے اس قدم کو انسانی اقدار اور بین الاقوامی انصاف کے لیے ایک مخلصانہ عزم کی عکاسی کرنے والا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے اصولوں کی بحالی کی کوششوں کو بڑھانے والا قرار دیا۔

سیکرٹری جنرل نے ان ممالک سے بھی اپیل کی جنہوں نے ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ وہ بھی ان تین ملکوں کی پیروی کریں تاکہ دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے عملی اقدامات کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کو تنازع کو ختم کرنے اور مشرق وسطی میں سلامتی اور استحکام قائم کرنے کا واحد راستہ قرار دیا۔

جیسے ہی تین ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کیا فلسطینی وزارت خارجہ نے ان فیصلوں کا خیرمقدم کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنا ایک پائیدار امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

محمود عباس نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اتھارٹی تمام اصلاحات اور وعدوں پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو اس نے کیے ہیں۔ فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے اس دن کو تاریخی قرار دیا ہے اور برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سے اظہار تشکر کیا ہے۔

اب فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ کر تقریباً 152 ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کو حماس کے لیے "ایک انعام" قرار دیا اور کہا ہے کہ حماس کے رہنما عوامی طور پر کہ رہے ہیں کہ یہ تسلیم 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا براہ راست نتیجہ ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں