سعودی عرب کے شمال میں جزیرہ نما عرب کی قدیم ترین انسانی بستی دریافت
اس کی تاریخ موجودہ زمانے سے تقریبا 11 ہزار سال پہلے کی ہے
سعودی ورثہ کمیشن نے آج جزیرہ نما عرب میں دریافت ہونے والی قدیم ترین معروف انسانی بستی کا انکشاف کیا ہے۔ اس بستی کا تعلق پتھروں کے جدید دور سے ہے۔ یہ بستی تبوک کے شمال مغرب میں واقع علاقے مصیون میں دریافت ہوئی۔
یہ تفصیلات سعودی ورثہ کمیشن اور جاپان کی کنازاوا یونیورسٹی کے درمیان ہونے والے مشترکہ آثارِ قدیمہ کے سروے اور کھدائی کے کام کے دوران سامنے آئیں، جس میں نیوم کی انتظامیہ نے بھی تعاون کیا۔ اس بستی کا زمانہ پتھروں کے جدید عہد کے ابتدائی دور سے جڑا ہے یعنی آج سے تقریباً 10300 سے 11000 برس پہلے کا زمانہ.
اس قدیم بستی میں نمایاں طور پر کئی اہم نوادرات دریافت ہوئی ہیں، جن میں تراشی ہوئی اشیا، پتھر کے چکی نما اوزار، خام مال کی باقیات کی بڑی مقدار، سنگِ مرمر سے بنی زیب و زینت کی اشیا، انسانی اور حیوانی ہڈیاں (جن سے دورِ زمانی کا تعین کیا گیا) اور مختلف اقسام کے پتھریلے اوزار شامل ہیں جو زیورات بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔