غزہ شہر سے فائل فوٹو رائیٹرز
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے اسرائیلی فوج "مشن مکمل کرنے" کے عزم کے ساتھ غزہ پٹی میں کارروائی جاری رکھے گی اور اسی دوران غزہ شہر اور وسطی علاقے پر بمباری بھی جاری ہے۔
العربیہ/الحدث کو امدادی کارکنوں نے بتایا کہ غزہ پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں بے گھر افراد کے ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں نو فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے متاثرین کی لاشوں کے ٹکڑے منتقل کر دی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے کے نیچے لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
سول ڈیفنس نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے رات کے وقت چار ایسے مکانات کو نشانہ جہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد مقیم تھے۔ اس کارروائی میں کچھ افرادجاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ کئی افراد لاپتا ہیں۔ ضروری ساز وسامان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کو نکالنے کی کوششیں ابتدائی اوزاروں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں، مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی مہاجر کیمپ، المخابرات اور النصر کالونیوں کے میں درجنوں گھروں اور رہائشی بلاکس کو نشانہ بنایا۔
غزہ کی سرحد پر اسرائیلی ٹینک [اے ایف پی]
دریں اثنا فلسطینیوں کے اجتماعات کو شہر کے وسط میں واقع میونسپل پارک کے قریب نشانہ بنایا گیا، جبکہ شیخ رضوان، تل الہواء اور الصبرا (غزہ شہر) میں بھی حملے کیے گئے۔
ٹینکوں کی پیشقدمی
شہر کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر'' تل ہوا'' کے جنوب اور پرانے ریڈیو و ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر کے قریب اسرائیلی گاڑیوں اور ٹینکوں کی محدود پیشقدمی دیکھنے میں آ رہی ہے،
علاوہ ازیں، گاڑیاں شہر کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں بھی تعینات ہیں، جبکہ شدید گولہ باری کی موجودگی کی وجہ سے شہر کے وسیع حصوں میں نقل و حرکت انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
مذکورہ طبی ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں غزہ پٹی میں 58 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تقریباً سات لاکھ افراد گھر چھوڑ چکے ہیں۔ جبکہ ابھی بھی شہریوں کی بڑی تعداد کا گھر چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلسل بمباری کے باعث جنوب میں نقل مکانی والے علاقوں میں پانی اور خوراک کی شدید کمی کے ساتھ انسانی حالات انتہائی دشوار ہیں۔
یہ میدانِ جنگ کی تازہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنگ روکنے کی کوششوں کو جاری رکھنے کی تصدیق کی، اور غزہ میں فائر بندی قائم کرنے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے امن منصوبہ پیش کیا۔
ٹرمپ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے، بعد ازاں انھوں نے چند دنوں سے عرب رہنماؤں کے ساتھ کی گئی گفتگو کو نتیجہ خیز قرار دیا۔
جبکہ نتن یاہو، جو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، نے ابھی تک امریکی صدر کے پیش کردہ 21 نکات پر مشتمل اس منصوبے کے بارے میں اپنی واضح رائے کا اعلان نہیں کیا ہے۔