غزہ میں حماس کے ارکان

حماس کا جھکاؤ ٹرمپ کے امن منصوبے کی طرف ہے: ذرائع کا انکشاف

4 دن کی مہلت، اسرائیل کی بھی سخت دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چار دن کے اندر ان کے امن منصوبے پر جواب نہ دیا تو اسے ’’جہنم‘‘ اور ایک سنگین انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کے نمائندے نے بھی ایسی ہی دھمکی دی ہے۔

"منصوبے کی طرف رجحان"

خبر رساں ادارے ’سی بی ایس‘ کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ حماس اس منصوبے پر رضامند ہونے کی طرف مائل ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ بدھ کے روز مصری اور قطری ثالثوں کو اپنا جواب پیش کرے گی۔

تاہم حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کی تجویز کا جائزہ لینے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ اگر حماس نے مقررہ مدت میں جواب نہ دیا تو اسے سخت انجام بھگتنا پڑے گا۔ ادھر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں مندوب دانی دانون نے بھی کہا ہے کہ اگر حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کیا تو اسرائیل قیدیوں کو واپس لانے کے لیے ہر صورت میں کارروائی کرے گا، چاہے وہ آسان راستہ ہو یا مشکل۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

20 نکاتی منصوبہ

گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے اس بیس نکاتی امن منصوبے کی کچھ تفصیلات جاری کیں۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس کی منظوری کے ساتھ فوراً جنگ بندی نافذ کر دی جائے۔

منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ غزہ کو غیر مسلح کر کے ایک فلسطینی کمیٹی کے تحت بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ چلایا جائے اور اس میں حماس کا کوئی کردار نہ ہو۔

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کو مزید تفصیل کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تجویز کامیاب ہوگی کیونکہ اسے عرب اور یورپی حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران جنگ بندی پر مذاکرات وقفے وقفے سے جاری رہے مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اس دوران اسرائیل نے غزہ پر بمباری اور سخت محاصرے کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ فلسطینی عوام بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں