اسرائیلی بمباری کے بعد تباہ حال غزہ کا منظر

سعودی عرب کا غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم، جامع امن کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے آغاز کا خیرمقدم کیا ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور جامع و منصفانہ امن کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔

جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے صدر کے فعال کردار اور قطر، مصر اور ترکیہ کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ وزارت نے ان تمام ثالثی مساعی کی تعریف کی جنہوں نے جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم اٹھانے میں کردار ادا کیا۔

سعودی عرب نے اس اقدام کو فلسطینی عوام کی انسانی مشکلات کم کرنے کی سمت ایک عملی آغاز قرار دیا، جو بالآخر اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے قیام کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں اور یہ عمل دو ریاستی حل کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ سعودی عرب کا مؤقف عرب امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے ہم آہنگ ہے، جن کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دی گئی ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں