عمر یاغی
جیت کا لمحہ واقعی حیرت تھی، تجربہ دریافت کا اصل جوہر ہے ... عمر یاغی کی "العربیہ" سے گفتگو
سعودی کابینہ نے انھیں 2025 کے نوبل انعام برائے کیمیا حاصل کرنے پر مبارک باد دی
نوبل انعام برائے کیمیا 2025 حاصل کرنے والے سعودی سائنس دان پروفیسر عمر یاغی نے اپنی کامیابی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا اور حیران کن تجربہ تھا۔ وہ نوبل انعام پانے والے پہلے سعودی سائنس دان ہیں۔ یہ اعزاز سویڈن کی شاہی اکیڈمی نے انھیں Reticular Chemistry کے بانی کی حیثیت سے اُن کی خدمات پر دیا، جس سے توانائی، ماحول اور پانی کے شعبوں میں انقلاب آیا۔
پروفیسر یاغی نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ انھیں یہ خبر اُس وقت ملی جب وہ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ایک حقیقی حیرت تھی، میں طیارے میں سوار ہونے والا تھا جب کمیٹی نے اطلاع دی کہ میں نوبل انعام جیت چکا ہوں۔ یہ لمحہ ناقابلِ یقین تھا"۔
عمر یاغی کے اب تک 300 سے زائد تحقیقی سائنسی مقالے شائع ہو چکے ہی ں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس میں کامیابی کی کنجی تجربہ کرنے کی جرات ہے۔ ان کے مطابق دریافت کی اصل روح یہی ہے کہ انسان نا معلوم میں قدم رکھنے سے نہ ڈرے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاغی نے واضح کیا کہ ان کا نیا تحقیقی ہدف ڈی این اے کی طرز پر کام کرنے والے فلزیاتی نامیاتی ڈھانچے بنانا ہے جو کاربن کو جذب کر کے مفید مادّوں میں تبدیل کر سکیں۔ وہ مصنوعی ذہانت اور مشینی تعلیم کے ذریعے ایسی تحقیق پر بھی کام کر رہے ہیں جو پہلے سالوں میں مکمل ہوتی تھی، اب چند ہفتوں میں ممکن ہو جائے گی۔ ان کے مطابق نئے نتائج سے مواد کی دریافت 50 گنا تیز ہو چکی ہے، اور مستقبل "انتہائی روشن" ہے۔
پروفیسر یاغی نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس بے پناہ وسائل اور ایسی قیادت ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہم ایسے دور میں ہیں جہاں سائنسی ترقی کے مواقع بے مثال ہیں، نوجوانوں کے لیے تحقیق میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔"
سعودی کابینہ نے بھی پروفیسر عمر یاغی کو اس کامیابی پر مبارک باد دی اور اسے تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے ریاستی عزم کی علامت قرار دیا۔ یاغی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیِ عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے ان کی تحقیقی سرگرمیوں کی بھرپور سرپرستی کی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاغی نے کہا "سائنس ... چوٹی تک پہنچنے کا سب سے تیز راستہ ہے، مگر اس کے لیے صبر اور تجربہ ضروری ہے۔ میری نصیحت ہے کہ نوجوان حوصلہ رکھیں، نامعلوم سے نہ ڈریں، کیونکہ تجربہ ہی دریافت کی بنیاد ہے"۔
یہ کامیابی سعودی عرب کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جو وژن 2030 کے تحت سائنس کے عالمی سفر میں مملکت کے بڑھتے کردار کی علامت بن گئی ہے۔