ایک فلسطینی بچہ 29 اکتوبر 2025 کو غزہ شہر میں ایک گھر پر رات گئے اسرائیلی حملے کے مقام پر چل رہا ہے۔ (رائٹرز)

شمالی غزہ میں اسلحے کے گودام پر بمباری کی : اسرائیلی فوج کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کی گئی بدترین بمباری کے بعد شمالی غزہ میں ایک اور فضائی حملے کے بارے میں کہا ہے کہ اس نے ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

غزہ کے شہری دفاع سے متعلق شعبے کے مطابق اس اسرائیلی بمباری سے ایک فلسطینی جاں بحق ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کیے گئے اس اعلان کہ اس نے ' غزہ میں جنگ بندی بحال کر دی ہے' کے محض چند گھنٹوں بعد ایک اور جگہ پر بمباری کر دی۔

یاد رہے غزہ میں جنگ بندی کا سلسلہ دس اکتوبر کو شروع ہوا ۔ یہ جنگ بندی امریکی صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے کے تحت عمل میں آئی۔

ٹرمپ امن منصوبے کے مطابق سب سے پہلے اسرائیل کے غزہ میں زندہ اور مردہ قیدیوں کا تبادلہ کیا جانا تھا۔ اب تک امن منصوبے کی اس شق پر کافی حد تک عمل ہو چکا ہے۔ اگرچہ ملبے کے تلے دبی ہونے کی وجہ سے کوئی درجن بھر اسرائیلیوں کی لاشیں نکالی نہیں جا سکیں اس لیے ان کی اسرائیل واپسی کا انتظار ہے۔

بدھ کے روز جنگ بندی کے دو بارہ نفاذ کے بعد شمالی غزہ میں پھر کی گئی بمباری سے متعلق اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے ' کچھ ہی دیر پہلے اسرائیلی فوج نے ایک مخصوص اور متعین جگہ پر بیت لاھیہ میں بمباری کی تاکہ دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جاسکے۔ دہشت گرد اس جگہ سے ایک حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' سے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیلی فوج کی اپنے ہی جنگ بندی بحالی کے اعلان کے بعد کی گئی اس بمباری سے ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔ جسے الشفا ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل بدھ ہی کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری کرتے ہوئے ایک سو سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ جن میں 46 فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں