1 جون 2025 کو ایران کے شمالی البرز پہاڑی سلسلے میں دریائے کاراج کے ساتھ ساتھ امیر کبیر ڈیم کے اوپر کی طرف دریا کے کم پانی کے داخلے کی تصویر دی گئی ہے۔ (اے ایف پی)

ایران میں بد ترین خشک سالی جاری، تہران 'امیر کبیر ڈیم' سے صرف دو ہفتے پانی مل سکے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران کو پانی فراہمی کے سب سے بڑے ذخیرے 'امیر کبیر' نامی ڈیم میں صرف 14 ملین کیوبک میٹر پانی رہ گیا ہے۔ جو تہران کے شہریوں کی دوہفتے کی ضروریات پوری کرنے سے زیادہ نہیں ہے۔

پانی کی اس بحرانی صورتحال کا ایران کو ایک طویل عرصے سے سامنا ہے۔ کیونکہ کئی دہائیوں سے بارشوں کا سلسلہ متاثر ہے اور آبی ضروریات کے لیے اہم سمجھے جانے والے کئی علاقے مسلسل خشک سالی کا شکار ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ' ارنا ' کے مطابق اس پانی کی قلت کی تازہ ترین تصدیق پانی فراہمی کی کمپنی کے ڈائریکٹر بہزاد پارسا نے بھی کی ہے ۔ کہ ڈیم امیر کبیر میں گنجائش کے مقابلے میں صرف آٹھ فیصد پانی باقی رہ گیا ہے۔ جو شہریوں کی صرف دو ہفتے کی ضروریات کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

یاد رہے امیر کبیر ڈیم ان چند ڈیموں میں سے ایک ہے جو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کرتے ہیں۔ اس ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کی آبی ضروریات کا انحصار جنوب سے اترنے والے پہاڑی چشموں اور برف پگھلنے سے ملنے والے پانی پر ہوتا ہے۔ کیونکہ البروز کے پہاڑ جن کی بلندی 18000 فٹ تک ہے عام طور پر برف پوش ہوتے ہیں۔ لیکن ان برسوں میں ایران بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔ اس لیے کہ پہاڑوں پر ہمیشہ موجود رہنے والی برف نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے۔

تہران شہر کو پانی کی قلت اور اس نوعیت کی سنگین موسمیاتی تبدیلی کا پچھلی ایک صدی تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

حکام بتاتے ہیں کہ ایک سال قبل امیر کبیر ڈیم میں 86 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ ہو گیا تھا۔ لیکن بارش میں کمی تقریبا ایک سو فیصد ہو گئی ہے۔

بہزاد پارسا نے اس موقع پر ایران کے دوسرے ڈیموں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ ان میں پانی کی صورتحال کیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے شہریوں کی یومیہ ضرورت تین ملین کیوبک میٹر پانی ہے۔ پانی کی اس قلت کے پیش نظر ماہ جولائی اور اگست کے دوران حکومت نے ہفتہ وار چھٹیوں کی تعداد دو کر دی تھی۔ تاکہ پانی کا استعمال کم ہو سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں