31 اکتوبر 2025 کو ناصر میڈیکل کمپلیکس کے ملازمین اسرائیل کی طرف سے حراست میں لیے گئے اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر رہا کیے گئے فلسطینی قیدیوں کی تیس لاشوں میں سے ایک لاش کو اتار رہے ہیں، جب جسم کے تھیلے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں پہنچے۔ (اے ایف پی)

غزہ : اسرائیل نے 45 فلسطینی اسیران کی لاشوں کی باقیات واپس بھیج دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ بندی کے بعد اسرائیلی جیلوں میں قید کے دوران ہلاک کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں غزہ واپس بھجوانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز مزید 45 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل نے غزہ بھجوائی ہیں۔

اب تک 270 کی تعداد میں لاشوں کی واپسی ہو چکی ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس اور اسرائیلی ریاست دونوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم فرق یہ ہے کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو اسرائیلی فوج نے اپنی بمباری سے ہلاک کیا تھا اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو زیادہ تر تعداد میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔

ادھر پیر کے روز اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حماس کی طرف سے بھیجی گئی تازہ 3 لاشوں کا فرانزک کرانے کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ہیں۔

یاد رہے یہ 3 لاشیں جن کی باقیات کا تازہ فرانزک کرایا گیا ہے ان میں امریکی شہریت کے حامل اسرائیلی کیپٹین 21 سالہ اومر نیوٹا ، 19 سالہ ڈینیئل اور 40 سالہ اسرائیلی فوجی کرنل آساف ہمامی شامل تھے۔

حماس کے پاس جنگ بندی کے موقع پر مجموعی طور پر 48 قیدی تھے جن میں سے 28 مردہ حالت میں تھے۔ 20 زندہ قیدیوں کو حماس نے پہلے ہی روز رہا کر دیا تھا۔ جبکہ مردہ قیدیوں کی لاشیں بھی بتدریج واپس اسرائیل بھیجی جا رہی ہیں۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس لاشوں کی ترسیل میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے اور یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں