(بائیں سے دائیں) اداکار خالد عبد اللہ، ہمایوں ارشادی اور شان توب چار دسمبر 2007 کو لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں مصری تھیٹر میں پیراماؤنٹ کلاسک کی دی کائٹ رنر کے افتتاح میں۔ (تصویر بذریعہ کیون ونٹر / گیٹی امیجز نارتھ امریکہ / گیٹی امیجز اے ایف پی کے ذریعے)

ایرانی اداکار ارشادی کینسر سے جنگ کے بعد 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

انہوں نے ہالی وڈ میں بھی کام کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اداکار ہمایوں ارشادی کینسر سے جنگ کے بعد منگل کو 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا نے اطلاع دی۔

مرحوم عباس کیارستمی کی Palme d’Or جیتنے والی فلم Taste of Cherry (1997)میں ارشادی کو اپنے غیر معمولی کردار سے بین الاقوامی شہرت ملی جس میں ایک ناامید شخص اپنی طے شدہ خودکشی کے بعد تدفین کے لیے کسی کی تلاش میں ہے۔

اس فلم نے انہیں عالمی سطح پر شناخت عطا کی اور دیر سے سہی لیکن انتہائی قابل احترام اداکارانہ کیریئر کا نکتۂ آغاز بنی۔

ارشادی 1947 میں وسطی اصفہان میں پیدا ہوئے اور فلم انڈسٹری میں آنے سے پہلے فن تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔

ہالی وڈ کی فلموں مثلاً دی کائٹ رنر (2007) میں اداکاری کے ساتھ ان کا کام بین الاقوامی سامعین تک بھی پہنچا۔

انہوں نے آ موسٹ وانٹیڈ مین (2014) میں بھی کام کیا اور زیرو ڈارک تھرٹی (2012) میں مختصر کردار میں نظر آئے۔

ایران کے ہاؤس آف سنیما نے ان کی وفات کی تصدیق کی اور فنکار برادری سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ارشادی کو سینما، تھیٹر اور ٹیلی ویژن کی ممتاز شخصیت کے طور پر سراہا۔

حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کے انتقال کو "افسوسناک" قرار دیتے ہوئے انہیں "ایرانی سنیما کا ایک عظیم اور غور و فکر کرنے والا اداکار" قرار دیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں