25 نومبر 2025 کو شام کے ساحلی شہر لطاکیہ میں علوی اقلیتی برادری کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد، لوگ الازہری اسکوائر پر ایک احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

شام : ہزاروں علویوں کا احتجاج ، بشارالاسد دور کے حکام کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بشارالاسد حکومت کے بعد تقریباً ایک سال ہونے کے نزدیک ہے اور شام کے مشہور علوی قبیلے کے ہزاروں افراد احتجاجی مظاہرے کے لیے منگل کے روز سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرے شام کے ساحلی علاقوں میں بطور خاص سامنے آئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ہزاروں مظاہرین شام میں ایک وفاق پر مبنی نظام قائم کرنے کے مطالبے کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کررہے تھے کہ بشارالاسد کے دور کے جن سرکاری و فوجی حکام کو حراست میں لیا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے۔ یاد رہے بشارالاسد کی حکومت کا پچھلے سال آٹھ دسمبر کو احمد الشرع نے تختہ الٹ دیا تھا۔ بشارالاسد ملک سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔

تاہم یہ مظاہرین مبینہ طور پر مذہبی منافرت کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے تناظر میں ہونے والے واقعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔

مظاہرین نے ساحلی شہر لطاکیہ میں اپنی موجودگی ظاہر کی۔ وہ نعرے لگا رہے تھے شام کے لوگ متحد ہیں اور ایک ہیں۔ اس لیے ساری دنیا یہ سن لے علوی کبھی جھکیں گے نہیں۔

مظاہرین کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا مگر ان فورسز نے کہیں بھی مداخلت نہیں کی ہے۔ شام کی پچھلی رجیم کے مقابلے میں مظاہرین کے ساتھ یہ سلوک نہایت نرمی پر مبنی تھا۔

مظاہرین یہ بھی کہہ رہے تھے کہ مسلح گروہ علاقے سے نکل جائیں اور ہمارے شہدا کو انصاف ملے۔ ایک اٹھاون سالہ وکیل نے مظاہرے کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ۔ مگر اپنی شناخت ظاہر نہ کی۔

خیال رہے ماہ مارچ میں شام کے علویوں کے گڑھ میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ حکام کے مطابق اس دوران اس کمیونٹی کے کم از کم 1426 لوگ مارے گئے تھے۔ اب منگل کے روز طرطوس اور جبلہہ کے علاقوں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

سینکڑوں مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر وفاقیت کے قیام اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبے درج تھے۔

ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ طرطوس، لطاکیہ اور جبلہہ میں علویوں کے مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ سابق حکومت کے وفادار جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

علویوں کے سربراہ غزال غزال نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ مغربی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کے مطابق جبلہہ میں مظاہرین اور حکومتی حامیوں کی جانب سے جوابی مظاہرے کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جاتی رہیں۔ یہ بھی معلوم کوا ہے کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم زخم معمولی نوعیت کے بتائے گئے ہیں۔

علویوں کے ان مظاہروں کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلا کر شام اور شام سے باہر اپنے حامیوں متوجہ کیا تھا۔ اس میں علویوں کی سپریم کونسل بھی متحرک نظر آئی۔

یہ اپیل شام کے وسطی شہر حمص میں علویوں کے خلاف تشدد کی لہر کے بعد سامنے آئی ، جہاں اتوار کو ایک سنی جوڑے کو قتل کر دیا گیا تھا اور جائے وقوعہ پر فرقہ وارانہ تحریر اور خاکے ملے تھے۔

اس واقعے کا ذمہ دار علویوں کو بتایا گیا تھا۔ان الزامات کے بعد علوی اکثریتی علاقوں میں دکانوں اور گھروں میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ امن قائم کرنے کے لیے حکام کی طرف سے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں