11
لونا نے شام کی تباہی پر تبصرہ کیا تو بشار الاسد نے قہقہے لگائے: العربیہ لیکس
الغوطہ میں اکیلے 35 ہزار مکانات تباہ ہوئے، شام میں 16 بڑے شہر مکمل اور جزوی تباہی کا شکار ہوئے
"العربیہ " کے لیے خصوصی طور پر لیک ہونے والی ریکارڈنگز میں شام کے معزول صدر بشار الاسد کو لونا الشبل کے ساتھ ایک گاڑی میں تباہ شدہ شہر الغوطہ کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے قہقہے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 650,000 سے تجاوز کر چکی ہے اور 78,000 افراد تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دسیوں ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور ایک ایسی تباہ کن معاشی گراوٹ ہو چکی ہے جس کا نقصان 14 سالوں میں 86 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔
العربیہ لیکس نے انکشاف کیا کہ بشار الاسد نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی۔ شام کے معزول صدر بشار الاسد "العربیہ" اور "الحدث" چینلز کو موصول ہونے والی ریکارڈنگز میں اپنی معاون لونا الشبل کے ساتھ اس گاڑی میں سفر کرتے ہوئے اور ملک کی تباہ شدہ سڑکوں پر قہقہے اور طنزیہ الفاظ ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس سب کے دوران بشار الاسد کا انداز ایسا تھا گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ان قہقہوں کو مبصرین نے شام میں مقتولین کی لاشوں کی بو پر ’’ قہقہے ‘‘ قرار دیا ہے کیونکہ وہ اور ان کی حکومت 2011 سے اب تک 650,000 سے زیادہ انسانوں کے قتل کا سبب بن چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو التضامن محلے کے قتل عام کی طرح اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ بشار حکومت کے قید خانوں میں 78,000 سے زیادہ افراد تشدد، طبی غفلت اور خراب حالات زندگی کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاد رہے تباہ شدہ مکانات کی تعداد اکیلے الغوطہ میں 35,000 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے تربیت اور تحقیق کے انسٹی ٹیوٹ کی ایک سابق تحقیق کے مطابق پورے شام میں پھیلے ہوئے 16 بڑے شہر مکمل اور جزوی تباہی کا شکار ہوئے۔ ان نقصانات کی لاگت 8 سے تقریباً 11 بلین ڈالر کے درمیان بتائی گئی۔ روسی صدارتی ایلچی الیگزینڈر لاورینتیف نے 2021 میں تعمیر نو کی لاگت 800 بلین ڈالر بتائی تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ان بڑے اعداد و شمار اور شامی شہروں کے ان تباہ کن مناظر کی سختی کے باوجود بشار اور لونا کے "قہقہے" نہیں رکے اور نہ ہی انہوں نے شامی معیشت کے مجموعی نقصانات پر کوئی پرواہ کی ۔ ورلڈ بینک کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق معیشت 2011 میں تقریباً 67 بلین ڈالر سے گر کر 2021 میں صرف 9 بلین ڈالر رہ گئی تھی جو 86 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔