چھے جولائی 2025 کو نیویارک کے بروکلین برج سے مین ہٹن کے افق اور بلند و بالا کا منظر۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ، اسرائیل اور قطر نے اتوار کو نیویارک میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیا، وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا۔ یہ اجلاس دوحہ میں اسرائیلی جیٹ طیاروں کے حملے کے کئی ماہ بعد ہوا ہے جس میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے میں ناکامی ہوئی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے ملاقات کی تصدیق کی لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دو ذرائع نے امریکی خبر رساں ادارے ایگزیاس کو بتایا، "غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سے یہ تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی ملاقات تھی۔ اس معاہدے کے لیے قطر نے ایک اہم ثالث کے طور پر کام کیا"۔
ایگزیاس نے یہ بھی اطلاع دی کہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وِٹکوف نے اس ملاقات کی میزبانی کی جس میں خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اسرائیل کی نمائندگی کر رہے تھے اور ایک نامعلوم سینئر قطری اہلکار نے شرکت کی۔
ہفتے کے روز قطر اور مصر دونوں نے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تاکہ غزہ جنگ بندی کے نازک معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
دوحہ میں ایک سفارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے کہا، جنگ بندی مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی افواج کا انخلاء مکمل نہ ہو (اور) غزہ میں استحکام واپس نہ آجائے۔
ایگزیاس نے اطلاع دی کہ اتوار کے اجلاس میں بنیادی توجہ زیادہ تر "غزہ امن معاہدے پر عمل درآمد" پر مرکوز تھی۔
نو ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے میں حماس کے اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیۃ اور دیگر افراد کو نشانہ بنایا گیا جو ناکامی سے دوچار ہوا۔
اس کے بجائے حملے میں چھے افراد ہلاک ہوئے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرزنش اور ناراضی سمیت بین الاقوامی تنقید کی ایک لہر پیدا ہوئی۔
ایگزیاس نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بعد میں "ٹرمپ کے زور دینے پر حملے پر معذرت کرنے کے لیے" وائٹ ہاؤس سے قطری وزیرِ اعظم آلِ ثانی کو فون کیا۔