"الساعدی القذافی کی محمد الحداد کے ساتھ تصویر، قید میں بھی رابطہ رہتا تھا"
لیبیا کے متقول سابق لیڈر معمر القذافی کے صاحبزادے الساعدی القذافی نے لیبیا کی طرابلس حکومت سے وابستہ فوج کے چیف آف اسٹاف محمد الحداد کی تصویر شائع کی ہے جو منگل کی شام انقرہ کے اوپر طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے ہلاک ہو گئے تھے۔
الساعدی القذافی نے بدھ کے روز ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم کرے۔ ان کی ہلاکت نے مجھے بہت دکھ پہنچایا۔ جب میں قید میں تھا تو وہ ہمیشہ مجھے سلام بھیجا کرتے تھے۔ اس بیان سے انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دونوں کے درمیان بالواسطہ رابطہ قائم تھا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ محمد الحداد لیبیا میں ایک حقیقی فوج کی تشکیل کے خواہاں تھے۔
یاد رہے کہ قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ عبد الحمید الدبیبہ نے گذشتہ روز محمد الحداد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اس حادثے میں بری فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل رکن الفیتوری غریبيل، عسکری صنعت کے ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر محمود القطیوی، لیبی فوج کے جنرل اسٹاف کے مشیر محمد العصاوی دیاب اور چیف آف اسٹاف کے میڈیا دفتر کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب بھی جان سے گئے تھے۔
واضح رہے کہ لیبی حکام نے الساعدی القذافی کو ستمبر سنہ 2021ء میں طرابلس کی ایک جیل میں سات برس قید کے بعد رہا کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے ان پر عائد الزامات سے بری کیے جانے کے بعد رہائی عمل میں آئی تھی۔ رہائی کے فوراً بعد الساعدی القذافی سیاسی پناہ حاصل کر کے ترکیہ چلے گئے تھے۔