میڈیا کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ غزہ میں میڈیا کو اب بھی رسائی نہیں دی جائے گی اور میڈیا پر پابندی جاری رکھی جائے گی۔ اس امر کا اظہار اسرائیلی حکام نے پیر کے روز اسرائیلی سپریم کورٹ میں کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی میڈیا غزہ تک نہ پہنچے اور وہاں کے حالات رپورٹ نہ ہوں۔ یہ مؤقف اسرائیل کے پبلک پراسیکیوٹر نے جمع کرایا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں میڈیا کے داخل ہونے پر پابندیاں سات اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے شروع میں لگا کر غزہ کو میڈیا خصوصا بین الاقوامی میڈیا کے لیے 'نو گو ایریا' بنا دیا تھا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

البتہ اسرائیلی ریاست نے کبھی کبھار اپنی پسند کے کسی میڈیا پرسن کو استثنائی بنیادوں پر جانے کی اجازت بھی دی ہے مگر یہ کم کم ہی ممکن ہو سکا۔ یاد رہے غزہ کی پٹی ایک زیر محاصرہ علاقہ ہے جہاں اسرائیلی فوج کی مرضی کے بغیر کوئی داخل ہو سکتا ہے نہ اس سے نکل سکتا ہے۔

میڈیا سے متعلق پلیٹ فارم 'دی فارن پریس ایسوسی ایشن' (ایف پی اے) جو کہ سینکڑوں بین الاقوامی صحافیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں 2024 میں درخواست دائر کی تھی کہ صحافیوں کو غزہ میں جانے کے اجازت دی جائے۔ خاص طور پر بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے غیر جانبدار صحافیوں کو غزہ میں جانے دیا جائے۔ تب سے اب تک اسرائیلی سپریم کورٹ نے اسرائیلی حکومت کو بار بار صحافیوں پر لگائی گئی پابندیوں میں توسیع کی اجازت دی ہے۔ تاہم پچھلی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 4 جنوری اس سلسلے میں ڈیڈ لائن ہوگی اور اسرائیلی ریاست اپنا حتمی مؤقف پیش کرے گی۔

اتوار کی رات دیر گئے اسرائیلی حکام نے اپنا یہ مؤقف سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا۔ جس کی ایک کاپی 'اے ایف پی' تک بھی پہنچی ہے۔

اسرائیلی ریاست نے کہا ہے کہ غزہ میں صحافتی سرگرمیوں پر اب بھی مکمل پابندی جاری رہے گی اور یہ علاقے کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

یاد رہے غزہ میں 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے 420 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ اسی طرح غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل بھی جنگ بندی معاہدے میں بیان کی گئی سطح کے مطابق نہیں ہے۔

اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ کی پٹی پر بغیر فوجی دستوں کے آنے جانے کی اجازت دی جائے۔ مگر اسرائیلی فوج نے سپریم کورٹ کے سامنے اسے اپنی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے عدالت کے سامنے یہ بھی نکتہ اٹھایا کہ ایک ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی کی باقیات کی تلاش غزہ میں جاری ہے۔ اس لیے غزہ میں صحافیوں کے داخل ہونے سے باقیات کی تلاش میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ خیال رہے یہ ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی رین ویلی ہے جس کی باقیات کو ابھی تلاش کرنا باقی ہے جسے حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو حراست میں لیا تھا۔

اسرائیلی سپریم کورٹ کا اس بارے میں متوقع فیصلہ ابھی باقی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کب کرے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں