اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار 5 اگست 2025 کو نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت سے قبل ایک سٹاک آؤٹ کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ REUTERS/Eduardo Munoz
ساموا اپنا اسرائیل کے لیے سفارتخانہ یروشلم میں کھولے گا : اسرائیلی وزیر خارجہ
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ساموا کا سفارتخانہ بھی اس سال یروشلم میں کام شروع کر دے گا۔ بحر الکاہل سے تعلق رکھنے والے اس ملک کا اسرائیل کو یہ عندیہ دینا اسرائیل کے حق میں غیر معمولی بات ہے۔ کیونکہ ابھی تک بہت تھوڑے ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب کی بجائے یروشلم میں کھولا ہے۔
زیادہ تر ملکوں کے سفارتخانے تل ابیب میں ہی کام کر رہے ہیں۔ ساموا سے پہلے یروشلم میں فجی ، پاپوا اور نیو گنی کے سفارتخانے کام کر رہے ہیں۔
سائر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ وہ یہ اعلان کچھ ہی دیر پہلے وزیراعظم ساموا سے ہونے والی اپنی بات چیت کی بنیاد پر کر رہے ہیں اور میں وزیراعظم ساموا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جنہوں نے اسرائیل کے حق میں یہ اخلاقی فیصلہ کیا ہے اور اپنا سفارتخانہ یروشلم میں کھولیں گے۔
وزیر خارجہ گیڈون سائر نے کہا میں ساموا کے اس کردار کی تعریف کرتا ہوں کہ اس نے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ حمایت کا اعلان کیا۔ ہم نے ساموا کے وزیر اعظم کو اسرائیل کے دورے کی دعوت دی ہے اور وہ جلد اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
خیال رہے یروشلم کی اہمیت فلسطین تنازعے میں غیر معمولی ہے۔ بین الاقوامی قراردادوں اور فیصلوں کے مطابق اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب ہی ہونا چاہیے جبکہ تل ابیب امریکی سرپرستی میں یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور امریکہ سمیت اب کچھ ملکوں نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر کے وہاں اپنے سفارتخانے قائم کر لیے ہیں۔
اسرائیلی قابض ریاست نے 1967 کی جنگ کے دوران یروشلم پر قبضہ کیا تھا۔ عالمی برادری اس قبضے کو ناجائز قرار دیتی ہے۔ اس لیے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
اسرائیلی حکومت کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ ان ملکوں کو ترغیبات دے کر اپنے سفارتخانے تل ابیب کی بجائے یروشلم میں کھولنے پر مائل کرے جو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اسرائیل ایسے ملکوں کو اپنے سفارتخانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے لیے مالی ترغیبات بھی دیتا ہے اور دیگر مراعات دینے کی پیشکش بھی کرتا ہے۔
اس پس منظر میں ساموا جیسی چھوٹی ریاستیں اسرائیلی ترغیبات کے باعث اپنے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے بعض اوقات تیار ہو جاتے ہیں۔ یوں اسرائیل کو ایک سفارتی کامیابی کا امکان ہو جاتا ہے۔
جس کے بدلے میں اسرائیل ان چھوٹی ریاستوں کو تجارتی مراعات کے علاوہ تکنیکی شعبے میں بھی تعاون دینا شروع کر دیتا ہے۔
بحر الکاہل کے ایک اور جزیرے فجی نے بھی پچھلے سال ستمبر میں اپنا سفارتخانہ یروشلم میں کھولا تھا۔ اب تک جن ملکوں نے اپنے سفارتخانے یروشلم میں کھولے ہیں ان میں امریکہ، گوئیٹے مالا ، ہنڈراس، کسوو ، پاپوا، نیو گنی اور پاراگویا شامل ہیں۔
امریکہ کی طرف سے اس سے قبل یہی مؤقف رہا ہے جو پوری عالمی برادری کا ہے کہ یروشلم اسرائیلی دارالحکومت نہیں ہو سکتا۔ مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ نے امریکی حمایت میں ایک غیر معمولی اور امریکی پالیسی سے ہٹ کر فیصلہ کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا تھا۔
2018 سے اسرائیل کے لیے امریکی سفارتخانہ یروشلم میں کام کر رہا ہے۔
اس پر عالمی برادری ہلکے احتجاجی ردعمل کے اظہار کے بعد چپ کر کے بیٹھ گئی ہے۔ حتیٰ کہ عرب و مسلم دنیا بھی یروشلم میں سفارتخانے کھولنے کے معاملے کو رکوانے میں ناکام ہے۔