سرطان البنكرياس (آيستوك)
لبلبےکے سرطان کے خطرے سے جڑے جینز دریافت
لبلبے کے سرطان کا سب سے مہلک قسم کے سرطان میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہ اکثر تب تک ظاہر نہیں ہوتا جب تک بیماری اتنی آگے نہ بڑھ جائے کہ علاج کے امکانات کم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہے۔
حال ہی میں ایک سائنسی تحقیق میں ایسی جینز کی شناخت ہوئی ہے ،جو اس بیماری کے جینیاتی خطرے کو بڑھاتی ہیں۔ یہ دریافت مستقبل میں ایسے اسکیننگ پروگرامز کے لیے راستہ کھول سکتی ہے جو زیادہ خطرے والے افراد کو پہلے پہچان سکیں۔
اس مطالعے کو اسپین کے قومی کینسر ریسرچ سینٹر (CNIO) نے کیا اور یہ Nature Communications نامی جریدے میں شائع ہوا۔
تحقیق میں لبلبے کی نالی کے غدودی سرطان پر توجہ دی گئی، جو لبلبے کے سرطان کی سب سے عام شکل ہے۔نتائج سے پتہ چلا کہ یہ جینز کومپلیمنٹ سسٹم (Complement System) سے تعلق رکھتی ہیں، جو جسم کے مدافعتی نظام کا حصہ ہے اور انفیکشن سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب اس نظام کا توازن خراب ہو جائے، چاہے پروٹین کی کمی ہو، زیادہ پیدا ہو یا جینز میں تغیرات ہوں تو مختلف بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں، جن میں سرطان بھی شامل ہے۔
تحقیق میں خاص طور پر دو جینز FCN1 اور PLAT کی نشاندہی کی گئی ہے، کیونکہ معلوم ہوا کہ ان میں ہونے والی تغیرات (mutations) لبلبے کے سرطان کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق مستقبل میں یہ دونوں جینز بایومارکرز (Biomarkers) کے طور پر کام کر سکتے ہیں، یعنی ان کی بنیاد پر زیادہ خطرے والے افراد کی شناخت کی جا سکے اور انہیں باقاعدہ معائنہ اور نگرانی کے پروگرامز میں شامل کیا جا سکے۔
ابتدائی تشخیص کی اہمیت
محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس دریافت کی اصل اہمیت ابتدائی تشخیص کے پروگرامز کے قیام میں مضمر ہے، جو لبلبے (پینکریاز) کے سرطان میں انتہائی اہم ہیں، کیونکہ اس مرض کا خطرہ زیادہ تر تاخیر سے شناخت ہونے کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے۔
آج تک ایسے مؤثر طریقے موجود نہیں تھے ،جو خطرے والے افراد کی شناخت پہلے سے کر سکیں، یہی وہ خلا ہے جسے یہ تحقیق پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس حوالے سے اسپین کے قومی کینسر ریسرچ سینٹر (CNIO) کا کہنا ہے کہ جینیاتی استعداد (Genetic Predisposition) کی شناخت ابتدائی تشخیص کے امکانات بہتر بنانے کی پہلی قدم ہے، جس سے مریضوں کی بقا کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔
اس مطالعے کے نتائج صرف تشخیص تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ مرض کے ارتقاء (Disease Progression) کو سمجھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ کومپلیمنٹ سسٹم کے دیگر جینز یہ طے کرتے ہیں کہ سرطان کے خلیے میں داخل ہونے والی مدافعتی خلیات (Immune Cells) کی نوعیت کیا ہوگی۔کچھ جینز مدافعتی خلیات کی تعداد بڑھاتے ہیں، جو مریض کی بقا کے امکانات کو بہتر بناتے ہیں۔جبکہ دیگر جینز ایسے خلیات پیدا کرتے ہیں جو مدافعتی ردعمل کو کمزور کر دیتے ہیں۔
یہ نتائج خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ لبلبے کا سرطان مدافعتی نقطہ نظر سے "ٹھنڈا (Cold Tumor)" سمجھا جاتا ہے، یعنی یہ مدافعتی نظام سے بچ نکل سکتا ہے اور روایتی مدافعتی علاج (Immunotherapy) پر کم اثر کرتا ہے۔
محققہ نوریہ مالاتس کے مطابق اس نئی سمجھ سے مستقبل میں مدافعتی علاج تیار کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، جو خاص طور پر کومپلیمنٹ سسٹم کے جینز کو ہدف بنائیںاور اس مرض کے علاج میں انقلاب لا سکتے ہیں۔اگرچہ یہ نتائج ابھی فوری علاج کا مطلب نہیں رکھتے، یہ لبلبے کے سرطان کی جینیاتی بنیادوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہیں اور ابتدائی تشخیص اور مستقبل کے زیادہ مؤثر علاج کی امید پیدا کرتے ہیں۔