غزہ شہر میں 13 جنوری 2026 کو جنگ سے تباہ شدہ عمارت کے اندر اور چھت پر قائم عارضی پناہ گاہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل-حماس ناقابلِ حل تنازعات کے باوجود غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع
اسرائیل کا غزہ سے انخلاء اور حماس کا غیر مسلح ہونا بدستور متنازعہ معاملات ہیں
غزہ جنگ بندی کا امریکی حمایت یافتہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے حالانکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور پہلے مرحلے میں غیر حل شدہ مسائل پر تنازعات بدستور موجود ہیں۔
آیا اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کو مکمل طور پر نکال لے گا، اس کے بارے میں وضاحت کا فقدان اور اسرائیل کا ناقابلِ سمجھوتہ مطالبہ کہ حماس کو مکمل غیر مسلح کیا جائے جس سے حماس واضح انکار کرتی رہی ہے، یہ دونوں جنگ بندی کے متنازعہ ترین معاملات ہیں۔
بدھ کو اعلان کردہ ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں روزمرہ کی حکمرانی کا انتظام کرنا ہے لیکن وسیع تر سیاسی اور سکیورٹی معاملات میں سوالات بدستور باقی ہیں۔
پہلے مرحلے سے نئے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے تک کی پیشرفت کی تفصیلی تقسیم درجِ ذیل ہے:
پہلے مرحلے کے حاصلات اور حل طلب معاملات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 نکاتی تجویز کے تحت منصوبے کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر کو شروع ہوا جس کے بعد ایک قیدی ران گویلی کے علاوہ تمام اسرائیلی قیدی رہا کر دیے گئے۔
اسرائیل نے حماس پر گویلی کی باقیات کی حوالگی میں تاخیر کا الزام عائد کیا ہے جبکہ حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی نے باقیات کی تلاش مشکل کر دی ہے۔
گویلی کے خاندان نے ثالثیں پر دوسرے مرحلے میں منتقلی مؤخر کر دینے پر زور دیا تھا۔
"آگے بڑھنے اور نئے حالات کو قبول کر لینے کی بات پر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ کیا ہم نے ہمت ہار دی؟ گویلی نے تو کسی معاملے میں ہمت نہیں ہاری تھی،" ثالثین کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرنے کے بعد ان کی بہن شیرا گویلی نے کہا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ گویلی کی باقیات بازیاب کروانے کی کوششیں جاری رہیں گی لیکن دوسرے مرحلے کے آغاز پر کوئی اعلانیہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی افواج نے 451 افراد بشمول 400 سے زائد بچوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
تخفیفِ اسلحہ، دوسرے مرحلے کا طرزِ حکومت
دوسرے مرحلے کے تحت غزہ کا انتظام ایک نام نہاد "امن بورڈ " کی نگرانی میں کام کرنے والی 15 رکنی فلسطینی ٹیکنو کریٹک کمیٹی کے ذریعے ہو گا جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے۔
حماس کے ایک سینیئر رہنما باسم نعیم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا، "اب ثالثین، امریکی ضامن اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کمیٹی کو بااختیار بنایا جائے۔"
ٹرمپ نے جمعرات کو بورڈ آف پیس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ کہ ارکان کا اعلان "جلد ہی" ہو گا۔
مصر، ترکی اور قطر کے ثالثین نے کہا کہ رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کو کمیٹی کی قیادت کے لیے مقرر کیا گیا۔
جمعرات کے اواخر میں مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ کمیٹی کے تمام ارکان "مصر پہنچ گئے تھے اور علاقے میں داخل ہونے کی تیاری کے لیے ملاقاتیں شروع کر دیں"۔
مصر کی سرکاری انٹیلی جنس سروسز کے قریبی القاہرہ نیوز نے کہا کہ بدھ کے روز شرقِ اوسط کے امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے "دوسرے مرحلے کے آغاز اور گذشتہ روز قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے اجلاس میں طے پانے والی باتوں" کا اعلان کیا جس کے بعد اراکین کی آمد ہوئی۔
شعث نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ کمیٹی "ہتھیاروں کے بجائے دماغ" پر انحصار کرے گی اور مسلح گروپوں کے ساتھ رابطہ کاری نہیں کرے گی۔
بدھ کے روز وِٹکوف نے کہا کہ دوسرے مرحلے کا مقصد "غزہ کو مکمل غیر عسکری بنانے اور تعمیرِ نو" بشمول تمام غیر مجاز مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنا ہے۔
وِٹکوف نے کہا، واشنگٹن کو توقع ہے کہ حماس اپنی بقیہ ذمہ داریوں بشمول گویلی کی لاش کی واپسی پر عمل کرے گی اور خبردار کیا کہ ایسا کرنے میں ناکامی کے "سنگین نتائج" ہوں گے۔
اس منصوبے میں غزہ کو تحول میں لے کر محفوظ بنانے اور جانچ شدہ فلسطینی پولیس یونٹوں کو تربیت دینے کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے بنیادی مسئلہ اسرائیل کے غزہ سے مکمل فوجی انخلاء کا اقدام ہے جو منصوبے میں شامل ہے لیکن اس کے لیے کسی تفصیلی اوقات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
جیسا کہ تخفیفِ اسلحہ، انخلاء اور حکمرانی پر بنیادی اختلاف برقرار ہیں تو سفارت کاروں کا خیال ہے کہ دوسرے مرحلے کی کامیابی کا انحصار ثالثین کے مسلسل دباؤ پر ہو گا اور آیا فریقین طویل عرصے سے جاری سرخ لکیروں سے آگے بڑھنے کے لیے تیار یا ایسا کرنے کے قابل ہیں۔