Members of the Iranian police stand guard at a protest in front of the British embassy following anti-government protests in Tehran, Iran, January 14, 2026. (File photo: Reuters)

مظاہروں کے تناظر میں اب تک کسی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی: ایرانی عدلیہ

مظاہروں میں شریک کچھ لوگ موساد اور سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے کرائے کے ایجنٹ ہیں: عدلیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں پھوٹنے والے حکومت مخالف عوامی احتجاج کے سلسلے میں اب تک سزائے موت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ یہ بات ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن نے بتائی ہے۔

عدلیہ کے ترجمان نے کہا کہ قانونی کارروائی کا عمل سخت اور طویل ہے جس میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل کچھ لوگ کرائے کے کارندے ہیں جن کے تعلقات اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" اور امریکی ایجنسی "سی آئی اے" سے ہیں۔

ترجمان کے مطابق عدلیہ گمراہ ہونے والے مظاہرین اور اصل اشتعال انگیزی کرنے والوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت سزائیں صرف کافی ثبوتوں کی دستیابی کے بعد ہی دی جائیں گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی تناظر میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل علی صالحی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے زیرِ حراست سینکڑوں مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

علی صالحی نے کہا کہ مظاہروں کا جواب فیصلہ کن، عبرت ناک اور فوری ہوگا۔ یاد رہے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ دار سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ہم فسادیوں کی کمر توڑ دیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں