Your browser doesn’t support HTML5 video

سعودی عرب کی تاریخ میں سیاحت پر 300 ارب ریال سے زیادہ کے ریکارڈ اخراجات ہوئے : وزیر سیاحت

سال 2025 میں سیاحوں کی تعداد 12.2 کروڑ رہی جن میں تقریبا 3 کروڑ غیر ملکی سیاح تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم میں سعودی عرب کی شرکت دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلقات کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیووس میں مملکت کی موجودگی جی - 20 (G20) معیشتوں میں اس کے مقام اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے سائے میں دنیا کی ایسی سب سے بڑی معیشت ہونے کی عکاسی کرتی ہے جو گہری ساختی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔

احمد الخطیب نے ڈیووس سے "العربیہ بزنس" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ مملکت فورم کے اجلاسوں اور دو طرفہ ملاقاتوں میں بھرپور طریقے سے شرکت کر رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ فورم نے گذشتہ سال ریاض میں ایک موسمِ بہار کا اجلاس منعقد کیا تھا، جبکہ اب اپریل کے دوران جدہ میں ایک نیا موسمِ بہار کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

الخطیب نے مزید کہا کہ وزارتِ سیاحت نے گذشتہ سال فورم کے ساتھ تعاون کی ایک یاد داشت پر دستخط کیے تھے اور فورم کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مملکت میں سیاحت اور سفر کے شعبے کی ترقی پر کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے اس تعلق کو طویل مدتی، اہم اور تزویراتی قرار دیا۔

وزیرِ سیاحت نے بتایا کہ سعودی عرب کا وژن 2030 اب زمین پر اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بحیرہ احمر، قديہ اور درعیہ جیسے بڑے منصوبوں کے پے در پے افتتاح ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی ہوائی اڈوں اور ہوا بازی کے شعبے میں نجی شعبے کے منصوبوں میں توسیع ہو رہی ہے، جس میں "ریاض ایئر" بھی شامل ہے۔

الخطیب نے اس بات کی تصدیق کی کہ سیاحت کا شعبہ جس صورت حال سے گزر رہا ہے وہ ایک جامع اور بے مثال تبدیلی ہے اور سعودی سیاحت میں ترقی کی شرح جی 20 ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

احمد الخطیب نے پہلی بار سال 2025 کے دوران سیاحتی شعبے کی کارکردگی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ مملکت نے اپنی تاریخ میں سیاحت پر سب سے زیادہ اخراجات ریکارڈ کیے ہیں جو کہ 300 ارب ریال سے زائد ہیں، جبکہ اس سے پچھلے سال یہ رقم تقریباً 282 ارب ریال تھی۔

انہوں نے ذکر کیا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 11.6 کروڑ سے بڑھ کر 12.2 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں تقریباً 3 کروڑ غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب کو سیاحت کے شعبے میں دنیا کے 10 اہم ترین ممالک میں شامل کرتے ہیں۔

سعودی وزیر نے واضح کیا کہ سیاحت کی ترقی کا براہ راست تعلق ہوا بازی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے ہے۔ انہوں نے عالمی کمپنیوں کے ذریعے مملکت کے ساتھ فضائی رابطوں میں توسیع اور بڑے ہوائی اڈوں کے منصوبوں کی طرف اشارہ کیا، جن میں شاہ سلمان ایئرپورٹ بھی شامل ہے جو "ایکسپو 2030" اور 2034 کے ورلڈ کپ کی میزبانی میں معاون ثابت ہوگا۔

احمد الخطیب نے ڈیووس سے "کوالٹی آف لائف انڈیکس" جلد متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔ یہ ایک امریکی ادارے کے تعاون سے شہروں میں معیارِ زندگی کی پیمائش کا پہلا عالمی اشاریہ ہے، جو بنیادی ڈھانچے، خدمات اور معیارِ زندگی جیسے معیارات پر مبنی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر شہروں کے درمیان مقابلے کی فضا کو فروغ دینا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں