Chair of the Palestinian National Committee for the Administration of Gaza, Ali Shaath reacts during a meeting with Egyptian Foreign Minister Badr Abdelatty (not pictured), in Cairo, Egypt, January 19, 2026. REUTERS/Mohamed Abd El Ghany
غزہ کے لیے فلسطینی کمیٹی کے سربراہ نے رفح راہداری کھلنے کو امید کی کھڑکی کھلنا قرار دے دیا
غزہ کے لیے اعلان کردہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ سے جڑی سب سے اہم رفح راہداری کا کھلنا دراصل فلسطینیوں کے لیے امید کی کھڑکی کا کھل جانا ہے۔
غزہ کے لیے قائم کی گئی اس ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی سربراہی فلسطینی اتھارٹی کو دی گئی ہے جس کے نائب وزیر علی شاس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
یہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت قائم کیے گئے امن بورڈ کی ماتحتی میں کام کرے گی۔
علی شاس نے اپنے بیان میں کہا رفح راہداری کو کھولنے کا اقدام انتظامی اقدام نہیں لگتا۔
تاہم یہ ایک لمبے سفر کی ابتدا ضرور ہے اور اس سے غزہ کے لوگوں کا باہر سے پھر سے رابطہ شروع ہو جائے گا۔ اس لیے یہ حقیقی معنوں میں فلسطینی عوام کے لیے امید کی کھڑکی ہے۔
رفح راہداری مصری سرحد سے جڑی سب سے بڑی راہداری ہے جو غزہ کا زمینی رابطہ باہر کی دنیا سے کرنے کا ذریعہ ہے۔ جسے تقریبا نو ماہ کے بعد اسرائیل نے کھولنا قبول کیا ہے۔ اس پر اسرائیلی قبضہ مئی 2024 میں کیا تھا۔