الصيام (آيستوك)

رمضان میں دل کے مریضوں کا روزہ ان کی صحت کی کیفیت پر منحصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی دل کے مریضوں کے ذہن میں یہ سوال دوبارہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ روزہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں، خاص طور پر جب روزمرہ معمولاتِ زندگی اور کھانے پینے و ادویات کے اوقات بدل جاتے ہیں۔

ماہرینِ امراضِ دل کے مطابق روزہ ہر مریض کے لیے مطلقاً منع نہیں، لیکن یہ سب کے لیے محفوظ بھی نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ بیماری کی نوعیت اور مریض کی صحت کے استحکام پر منحصر ہوتا ہے۔

مستحکم حالت والے مریضوں میں جیسے ہلکی انجائنا کے مریض یا وہ افراد جن کی انجیو پلاسٹی/قسطری علاج کے بعد بغیر پیچیدگی کے صحت یابی ہو چکی ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ادویات کے اوقات افطار اور سحری کے مطابق دوبارہ ترتیب دیے جائیں۔

اسی طرح وہ مریض جن کا بلڈ پریشر قابو میں ہو یا دل کی دھڑکن میں معمولی بے ترتیبی ہو، علاج کی پابندی اور باقاعدہ معائنے کے ساتھ عموماً محفوظ طریقے سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔

تاہم صورتحال ان مریضوں کے لیے مختلف ہوتی ہے ،جنہیں حال ہی میں دل کا دورہ پڑا ہو یا جو دل کے پٹھوں کی شدید کمزوری، شریانوں کی سخت تنگی یا بے قاعدہ اور خطرناک دھڑکن کا شکار ہوں۔

ایسے افراد کے لیے روزہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر پانی کی کمی یا بلڈ پریشر کم ہونے کی صورت میں جو اچانک حالت بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ اکثر خود روزے میں نہیں بلکہ رمضان میں اپنائی جانے والی غلط غذائی عادات میں ہوتا ہے۔ چکنائی اور نمک سے بھرپور بھاری افطاری بلڈ پریشر کو اچانک بڑھا سکتی ہے اور دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔

اسی طرح ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانا کھانے سے دورانِ خون پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ دل کو نظامِ ہاضمہ کی طرف زیادہ خون پمپ کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مشورے

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ افطار ہلکی غذا سے کی جائے، پھر نماز ادا کرنے کے بعد معتدل مقدار میں اصل کھانا کھایا جائے اور تلی ہوئی و چکنی اشیا سے پرہیز کیا جائے۔

افطار سے سحری تک مناسب مقدار میں پانی پینا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، کیونکہ پانی کی کمی خون کو گاڑھا کر کے جمنے (کلاٹس) کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ادویات کے اوقات کی تنظیم بھی خوراک کی طرح اہم ہے، اس لیے رمضان سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کر کے خوراک اور اوقات کو اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ روزے کے دوران بھی دوا مؤثر رہے۔

ڈاکٹر خود سے دوا کی مقدار بدلنے یا بند کرنے سے سختی سے منع کرتے ہیں۔اگر روزے کے دوران سینے میں درد، سانس پھولنا، شدید چکر آنا یا دھڑکن میں بے ترتیبی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً روزہ توڑ کر طبی مدد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ دل کی صحت اور استحکام کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں۔

آخرکار روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ مریض اور اس کے معالج کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بیماری کی حالت میں افطار کی رخصت صحت اور جان کے تحفظ کے لیے ہی دی گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں