یہ تصویر 23 جون 2025 کو بیروت کے مشرق میں اوکر میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو دکھاتی ہے۔ (اے ایف پی)
امریکہ ایران جنگی خطرات ، بیروت میں امریکی سفارت خانے کو لبنان سے نکل آنے کی ہدایت
امریکہ نے پیر کے روز اپنے لبنان میں موجود سفارتی عملے کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الفور لبنان سے نکل آئیں۔ یہ ہدایت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی خطرے کے پیش نظر کی گئی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں پورا خطہ بھی اس جنگ کی زد میں آسکتا ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی بھی اس ہدایت کی وجہ ہے کہ ایرانی حمایت امریکی سفارتکاروں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ۔ تاہم امریکی ہدایت میں اس کا اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ مگر صدر ٹرمپ کی جنگی دھمکیوں کے ہدف ایران کے ساتھ لبنانی حزب اللہ کی قربت واضح ہے۔ جبکہ ایران بھی ایک سے زائد بار یہ جوابی دھمکی دے چکا ہے کہ ایران پر حملہ کیا گیا تو جنگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
بیروت سے سفارت کاروں کا انخلا کرنے سے متعلق ہدایت کے بارے میں امریکی دفتر خارجہ کے سینیئر عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ اقدامات اپنے عملے کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
لبنانی سیکیورٹی ذرائع نے ' اے ایف پی ' کو بتایا ہے امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے ہدایت ملنے کے فوری بعد بیروت کے سفارت خانے میں موجود سفارتی عملے کے لگ بھگ چالیس ارکان پیر کے روز ہی بیروت سے روانہ ہو گئے ہیں تاکہ کسی جنگی ماحول میں محفوظ رہ سکیں۔ تاہم امریکی سفارت خانہ اس کے باوجود کھلا رہے گا۔
امریکی حکام کا ایران امریکہ کشیدگی کے پس منظر میں کہنا ہے سلامتی اور تحفظ سے متعلق امور پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ جنگی تیاریوں کو بھی تیز رکھنے کے احکامات دے رکھے ہیں تاکہ ایران کے خلاف امریکی افواج کا 'بلڈ اپ 'جاری رہے اور ضرورت پڑنے پر اڑتالیس گھنٹوں والے آخری الٹی میٹم
پر عمل کیا جا سکے۔ امریکہ نے کہہ رکھا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونا ہوگا۔
یاد رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اب تک کا آخری دور جنیوا میں منگل کے روز ہوا تھا۔ جبکہ اگلا مذاکراتی راؤنڈ مارچ کے شروع میں ہوگا۔ لیکن اس دوران دونوں طرف سے دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ جنگی تیاریوں میں تیزی آگئی ہے۔