المرشد الإيراني علي خامنئي (أرشيفية- فرانس برس)
ایرانی تردید کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مارے جانے کا اسرائیلی تخمینہ
علی خامنہ ای جہاں تک مجھے معلوم ہے زندہ ہیں: عباس عراقچی، وار روم میں جنگ کی قیادت کر رہے: ایرانی میڈیا
تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کے بعد اسرائیلی چینل 12 نے کہا ہے کہ ایرانی تردید کے باوجود تخمینے بتاتے ہیں کہ علی خامنہ ای مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی چینل نے یہ بھی بتایا کہ ایران پر پہلے حملے میں 30 ایرانی حکام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان زندہ ہیں، کہا: جی ہاں، جہاں تک مجھے معلوم ہے، وہ زندہ ہیں، عدلیہ کے سربراہ، پارلیمنٹ کے سپیکر اور تمام اعلیٰ حکام زندہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی کہ علی خامنہ ای وار روم میں جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میں ایسی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ علی خامنہ ای کے زندہ ہونے کی تصدیق کر سکوں۔
علی خامنہ ای کے ہیڈ کوارٹرز میں تباہی کی تصاویر
یہ بات تہران اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے اثرات کی تصاویر سامنے آنے کے بعد کہی گئی۔ سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر میں تہران میں علی خامنہ ای کے قلعہ نما کمپلیکس میں کالے دھوئیں کا بادل اور وسیع پیمانے پر نقصان دکھایا گیا ہے۔ کمپنی "ایئربس" کی جانب سے لی گئی تصویر میں کمپلیکس کے اندر منہدم عمارتیں دکھائی گئی ہیں۔ یہ کمپلیکس عام طور پر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ اور اعلیٰ حکام کے استقبال کے لیے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
علی خامنہ ای کی جگہ سخت گیروں کی تقرری کا امکان
ایک متعلقہ تناظر میں دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ ایران پر 28 فروری ہفتے کے روز ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے کے عرصے میں سی آئی اے نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر اس آپریشن میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے بھی گئے، تب بھی امکان ہے کہ ان کی جگہ پاسدارانِ انقلاب کی سخت گیر شخصیات لے لیں گی۔ ان دو ذرائع ، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس نے کسی بھی منظر نامے کو یقینی طور پر حتمی قرار نہیں دیا تھا۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تیار کردہ جائزوں میں عام طور پر اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت کے بعد ایران میں کیا ہو سکتا ہے اور اس بات کا کتنا امکان ہے کہ فوجی کارروائی تہران میں حکومت کی تبدیلی کا باعث بن جائے۔ یاد رہے حکومت کی تبدیلی اب واشنگٹن کا اعلان کردہ ہدف بن گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا کہ تہران کے اندر متعدد مقامات پر بیک وقت حملے کیے گئے جہاں ایرانی سیاسی و سکیورٹی قیادت کے متعدد اعلیٰ حکام جمع تھے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ مشترکہ حملوں میں علی خامنہ ای کے مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان حملے کے اہداف میں شامل تھے۔
رہبر اعلی محفوظ مقام پر منتقل
تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو دارالحکومت تہران سے باہر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اپنی طرف سے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے اطلاع دی ہے کہ پزیشکیان خیریت سے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ تمام پیش رفت اس توقع کے درمیان سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان باہمی جنگ کئی دنوں تک جاری رہے گی۔ تہران نے خطے کے تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔