منتخب سيدات إيران في كأس آسيا بأستراليا

پانچ ایرانی خاتون کھلاڑی آسٹریلیا میں روپوش، ٹرمپ کا پناہ دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویب سائٹ ’’ دی ایتھلیٹک ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کی پانچ کھلاڑی کیمپ سے فرار ہو گئی ہیں اور وہ آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے زیر انتظام ایک محفوظ پناہ گاہ میں موجود ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پوری ٹیم کو پناہ دی جائے اور انہیں واپس نہ بھیجا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ آسٹریلیا میں ہونے والے ایشیا کپ میں فلپائن کے خلاف ایران کے آخری میچ کے بعد پیش آیا جہاں پولیس نے پیر کی شام پانچ کھلاڑیوں کو ہوٹل چھوڑنے میں مدد کی۔

بتایا گیا کہ آسٹریلوی حکومت کے نمائندوں نے پہلے ہی ٹیم کو ان کے اختیارات سے آگاہ کر دیا تھا اور یہ پانچوں خاتون کھلاڑی پیر کے طے شدہ عشائیے میں موجود نہیں تھیں۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے بعد ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے خواتین کی ٹیم کو جنگ کے وقت کی غدار قرار دیا اور انہیں وطن واپسی پر سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی کیونکہ انہوں نے ایشیا کپ کے افتتاحی میچ میں قومی ترانہ گانے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق فیفا، ایشین فٹ بال کنفیڈریشن اور آسٹریلوی حکومت کے درمیان کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے ان کے قیام میں توسیع کے حوالے سے ہنگامی بات چیت جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی خاتون کھلاڑیوں کو پناہ دے اور انہیں وہاں واپس نہ بھیجے جہاں یقینی طور پر انہیں قتل کا سامنا ہو گا۔ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر لکھا کہ آسٹریلیا ایک بڑی انسانی غلطی کر رہا ہے۔ انہوں نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو امریکہ انہیں خوش آمدید کہے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں