الرئيس الإيراني مسعود بزشكيان (أرشيفية-فرانس برس)
ایران خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا : پزشكيان
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ خطے میں امریکیوں کو نشانہ بنانا ایران کا جائز حق ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے یا ان کے ساتھ تنازع میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حملے صرف ان ذرائع تک محدود ہیں جہاں سے ایران کے خلاف حملے ہو رہے ہیں۔
ایک سرکاری ایرانی بیان کے مطابق یہ بات بدھ کے روز پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ پزشکیان نے کہا کہ "ایران اپنے دفاع کے جائز حق کے فریم ورک کے تحت صرف ان اڈوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس کے ملک کے خلاف جارحیت کا ذریعہ ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے جنگیں بھڑکانے والے ذمہ دار فریقوں پر توجہ نہ دینا عالمی نظام اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ رابطہ 28 فروری سے جاری مسلسل فوجی کشیدگی کے سائے میں ہوا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فریقین کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
پزشکیان کو خلیجی ممالک کی سرزمین پر ہونے والے حملوں پر معذرت کرنے اور انہیں روکنے کے عہد کے بعد پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر قدامت پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایرانی صدر نے دوسرے بیان میں دوبارہ اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک "امریکی اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دے گا اور ہتھیار نہیں ڈالے گا"۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق پزشکیان نے مزید کہا کہ "ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھائی چارے کے بندھن میں بندھے ہیں، لیکن اگر ہمیں کسی بھی ملک کی طرف سے حملے کا سامنا کرنا پڑا تو ہم اس جارحیت کا جواب دیں گے"۔
اس کے پزشکیان نے خلیجی ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "دشمن ایران اور دیگر ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا "ایرانی عوام اور اس کی مسلح افواج ملک میں ہر جگہ موجود ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی، جارحیت یا نا انصافی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے"۔
ان کا خیال تھا کہ "امریکہ نے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں ان کی معذرت کو غلط رنگ دے کر اسے ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کیا ہے"۔