UAE Assistant Minister for Political Affairs Lana Nusseibeh speaks during a UN Security Council meeting on the situation in the Middle East. (File Photo: AFP)

ایران سفارتکاری کے لیے پڑوسی ملکوں پر حملے روکے، متحدہ عرب امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارت کار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سفارتی نتیجے پر پہنچائیں گے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملوں کو روکے۔ اماراتی سفارت کار نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

امارات کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور لانا نصیبہ نے کہا ہے کہ ایران کے پڑوسی ملک حیران ہیں کہ ایران نے ان کے خلاف جارحانہ حملے کیے ہیں۔ لانا نصیبہ جو اس سے قبل اقوام متحدہ میں امارات کی نمائدہ رہ چکی ہیں نے اپنے انٹرویو میں اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ جاری جنگ کا خاتمہ سفارت کاری سے ہوگا۔ تاہم انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ پڑوسیوں پر حملے روک دے۔

لانا نصیبہ نے کہا تنازعے کا حتمی حل مذاکرات اور سفارتی عمل سے ہی ممکن ہوگا۔ لیکن اس مذاکراتی عمل تک پہنچنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جس کے لیے انہیں امید ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس لمحے کی طرف پہنچنے میں قیادت کریں گے۔

ثالثی کے کوششوں کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا لازمی ہے کہ ایران پہلے اپنے اڑوس پڑوس پر حملے بند کرے۔ کیونکہ یہ مشکل ہوگا کہ ثالثی کا عمل حملوں کی زد میں رہے۔ ثالثی صرف اس وقت کردار ادا کرسکتی ہے جب توپوں کو خاموش کرایا جائے۔

انہوں نے کہا جب وہ اس تصادم کے شروع ہونے سے قبل ایران گئی تھیں تو ایران نے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا تھا کہ ایران امارات کو ہدف بنائے گا۔ ایران کی کارروائیاں حیران کن ہیں۔ ایران نے ان جارحانہ حملوں سے قبل کوئی انتباہ بھی نہیں کیا تھا۔

دوسری جانب ایران یہ کہتا ہے کہ خلیجی ملکوں میں اس کے حملوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے ، امریکی تنصیبات اور مراکز ہیں۔ اس سلسلے میں ایران نے متحدہ عرب امارات ، قطر، سعودی عرب ، کویت ، بحرین ، اردن اور عراق کو نشانہ بنایا ہے۔

امارات کا کہنا ہے کہ اس نے اماراتی تجارتی مرکز دبئی سمیت مختلف جگہوں پر ہوٹلوں ، اہم عمارات اور ایئر پورٹس کے علاوہ شہری انفراسٹکچر کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں