بنيامين نتنياهو في القدس - فبراير 2026 رويترز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں پر کسی بھی فوجی حملے کو پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتنياھو نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ تل ابیب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی برے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
بنجمن نتنياهو نے تل ابیب میں اپنے دفتر سے جاری پریس بیانات میں کہا کہ ہم ایران کو ایسی جگہ پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل زوال کی طرف جا رہا ہے۔
واشنگٹن نے تل ابیب کو مطلع کر دیا
خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" نے اسرائیلی جنگی منصوبوں سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو تہران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے باخبر رکھا ہے۔ ذریعے نے یہ بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں معطل کر دے گا۔
یہ پیش رفت امریکی صدر کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ فیصلہ اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جس سے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی کے حتمی اور جامع حل کے لیے حال ہی میں "انتہائی اچھے اور تعمیری" مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے بڑے حروف میں لکھے گئے پیغام میں مزید کہا کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ اس ہفتے جاری مذاکرات کے نتائج آنے تک حملے مؤخر کر دیے جائیں۔
ایران کی تردید
دوسری جانب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں جن پر تہران نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جنگ شروع نہیں کی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یاد رہے کہ امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے کی شام آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پیر کی شام تک کی مہلت دی تھی اور بصورتِ دیگر ایرانی توانائی کی تنصیبات کو بمباری سے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بجلی کے نیٹ ورک کو مٹانے کی دھمکی پر عمل کیا تو وہ اسرائیلی بجلی گھروں اور خطے میں امریکی اڈوں کو سپلائی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کریں گے۔
دریں اثنا توقع ہے کہ آج شام اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں ایران اور لبنان کے ساتھ جاری جنگ کا جائزہ لیا جائے گا۔