ایران پر حملوں کے بعد اٹھتا دھواں

ممکنہ جنگ بندی سے قبل اسرائیلی اشتعال انگیزی، ایران میں مشہد اور کاشان پر حملے

تل ابیب کو خدشہ ہے ٹرمپ امن مذاکرات کے آغاز اور حملے معطل کرنے کا اعلان کر دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا نے ملک کے شمال مشرق میں مشہد ایئرپورٹ کے قریب بمباری اور ملک کے وسط میں واقع شہر کاشان کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے اندر اہم اہداف پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں کیونکہ امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور تل ابیب میں فوجی کارروائیاں جلد رک جانے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ منگل کو ہدایت دی تھی کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایران کی دفاعی صنعت کو زیادہ سے زیادہ تباہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی امریکی منصوبے کے مسودے پر بریفنگ کے بعد کیا گیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کو بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ کچھ حکام نے ان ملاقاتوں میں شرکت کی جہاں اس منصوبے کی تفصیلات پر بحث کی گئی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

مختصر وقت کی ڈیڈ لائن کے ساتھ یہ تیز رفتار نقل و حرکت اسرائیل کے اندر اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی لمحے امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے اس منصوبے کی موجودگی یا اسے ایران بھیجنے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کے اہم اہداف حاصل ہونے سے پہلے ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ ان اہداف میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ، تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا اور ایرانی نظام کے خلاف داخلی تحریک کے لیے حالات سازش بنانا شامل ہے۔

اس تناظر میں کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ بواز بسمتھ نے کہا ہے کہ اگر یہ تینوں اہداف حاصل نہ ہوئے تو جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ امریکی منصوبہ اپنی شقوں میں اب بھی عمومی ہے لیکن اس نے اسرائیلی قیادت میں تشویش پیدا کر دی ہے جس کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ ایرانی جوہری پروگرام یا تہران کی میزائل صلاحیتوں کو کافی حد تک روکنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ حملوں میں تیزی لانے کے احکامات تل ابیب میں اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران دیے گئے جہاں فضائیہ اور انٹیلی جنس کے سربراہوں سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے ان اہداف کا جائزہ پیش کیا جنہیں اب بھی ایران کے اندر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں