من مدينة غزة يوم 20 فبراير (رويترز)

غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کا امن کونسل کا منصوبہ: تفصیلات سامنے آگئیں

منصوبے کے تحت تمام دھڑوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کیا جائے گا اور 8 ماہ میں سرنگیں تباہ کی جائیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں جاری نازک جنگ بندی کے دوران ایک دستاویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی امن کونسل نے حماس کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے نیچے بنے سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے اور مرحلہ وار اسلحہ پھینکنےپر اتفاق کیا جائے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے آج جمعہ کے روز رپورٹ دی ہے کہ اس منصوبے میں آٹھ ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے جس کا آغاز غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی کے کنٹرول سے ہوگا۔

یہ کمیٹی امریکہ کی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہوگی جو پٹی میں سکیورٹی کی ذمہ دار ہوگی۔ اس عمل کا اختتام اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا پر ہوگا جب اس بات کی حتمی تصدیق ہو جائے گی کہ غزہ مکمل طور پر اسلحہ سے پاک ہو چکا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایک اتھارٹی اور ایک ہی اسلحہ

معلومات کے مطابق امن کونسل نے یہ منصوبہ گذشتہ ہفتے حماس کو پیش کیا تھا تاہم تحریک نے ابھی تک اس پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس منصوبے کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ 12 نکات پر مشتمل ایک دستاویز ہے جس کا عنوان "غزہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے پر عمل درآمد مکمل کرنے کے اقدامات" ہے۔ دوسرا حصہ "ٹائم لائن کے اہم مراحل" کے عنوان سے ہے جو پانچ مراحل پر مشتمل ہے جس کے دوران حماس آٹھ ماہ کے عرصے میں اپنا اسلحہ حوالے کرے گی۔

دستاویز میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ غزہ میں موجود تمام مسلح دھڑے بشمول جہاد اسلامی جیسے گروہ غیر مسلح ہونے کے عمل میں شامل ہوں گے اور اس عمل کی نگرانی غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی کرے گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسلحہ جمع کرنے کی تصدیق کے لیے کمیٹی

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک اسلحہ کے اصول کے تحت چلایا جائے گا جہاں صرف قومی کمیٹی کے مجاز افراد ہی اسلحہ رکھنے کے حقدار ہوں گے اور تمام دھڑے اپنی مسلح سرگرمیاں روک دیں گے۔

دسویں نکتے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر مسلح کرنے کے عمل کی قیادت قومی کمیٹی کے ذریعے فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہوگی جبکہ بین الاقوامی سطح پر اسلحہ جمع کرنے کی تصدیق کرنے والی کمیٹی اس کی توثیق کرے گی جسے بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہوگی۔

امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکیولے ملادی نوف اسلحہ جمع کرنے کی تصدیق کرنے والی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

دستاویز کے دوسرے نکتے میں ذکر کیا گیا ہے کہ تعمیر نو کے لیے ضروری سامان بشمول ابتدائی بحالی کی ضروریات اور منظور شدہ دوہرے استعمال والی اشیاء کو ان علاقوں میں لے جانے کی اجازت دی جائے گی جن کے بارے میں تصدیق ہو جائے گی کہ وہ اسلحہ سے پاک ہیں اور عملی طور پر قومی کمیٹی کے زیر انتظام ہیں۔

تاہم 12 نکات پر مشتمل اس منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام یا آزادی کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا گیا۔ حماس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تحریک اس دستاویز کا مطالعہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب جہاد اسلامی سمیت تین فلسطینی دھڑوں نے گذشتہ روز بیانات جاری کیے جن میں اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے مقابلے میں غیر منصفانہ طور پر غیر مسلح کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔

آٹھ ماہ کا دورانیہ

منصوبے کے ٹائم لائن کے مطابق پہلے مرحلے میں جو 15 دن پر محیط ہوگا قومی کمیٹی غزہ پٹی پر تمام سکیورٹی اور انتظامی اختیارات سنبھال لے گی اور اسلحہ کی گنتی کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دے گی۔ دوسرے مرحلے میں جو 16 ویں دن سے 40 ویں دن تک چلے گا، اسرائیل اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے توپ خانے اور ٹینکوں سمیت تمام بھاری ہتھیاروں کو ہٹا دے گا اور وہاں بین الاقوامی سکیورٹی فورس تعینات کی جائے گی۔

تیسرے مرحلے میں جو 30 ویں سے 90 ویں دن تک ہوگا حماس اپنے تمام بھاری ہتھیار اور فوجی ساز و سامان قومی کمیٹی کے حوالے کر دے گی اور تمام سرنگوں اور غیر دھماکہ خیز مواد کو تباہ کرنے کی اجازت دے گی۔

چوتھے مرحلے میں جو 91 ویں سے 250 ویں دن تک جاری رہے گا ہلکے اور ذاتی اسلحہ کی رجسٹریشن اور اسے جمع کرنے کے لیے ایک سکیورٹی کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور تصدیقی عمل کے مطابق طے شدہ مراحل میں اسرائیلی افواج کا انخلا شروع ہوگا۔

پانچویں مرحلے کو غزہ کے اسلحہ سے پاک ہونے کی حتمی تصدیق کا دورانیہ قرار دیا گیا ہے جس میں سکیورٹی پیرا میٹر کے علاوہ اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا عمل میں آئے گا اور جامع تعمیر نو کے کاموں کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل کا غزہ کے نصف سے زائد حصے پر کنٹرول برقرار رہا جبکہ حماس کا باقی نصف حصے اور بیس لاکھ آبادی پر کنٹرول ہے جن میں سے زیادہ تر دو سال سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد بے گھر ہو چکے ہیں۔

حماس نے گذشتہ چند ماہ کے دوران عوامی سطح پر غیر مسلح ہونے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے تاہم اس کے حکام نے نجی گفتگو میں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ یہ ایک ایسے سیاسی راستے کا حصہ ہو جو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں