حقل نفط في العراق (رويترز)
عراق : اربیل ہوائی اڈے کے نزدیک دھماکوں کے بعد ... آئل فیلڈ میں ڈرون گر کر تباہ
عراق میں فوجی اڈوں، امریکی مفادات اور تیل کے اداروں پر حملوں کے تسلسل میں وزارت دفاع نے بصرہ صوبے کے شمال مشرق میں مجنون آئل فیلڈ میں ایک ڈرون گرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم وزارت نے تصدیق کی ہے کہ یہ ڈرون پھٹا نہیں اور اس سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ آج ہفتہ کے روز اربیل بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد پیش آیا، جہاں داعش کے خلاف جنگ کے لیے واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی افواج موجود ہیں۔
خبر رساں ایجنسی "فرانس پریس" کے مطابق ہوائی اڈے کے گردونواح سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بغداد اور واشنگٹں نے ایران اور دوسری طرف امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ کے آغاز سے ہی عراقی افواج اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے "دہشت گردانہ حملوں" کے مقابلے میں "تعاون تیز کرنے" پر اتفاق کیا ہے۔
عراقی حکومتی سکیورٹی میڈیا سیل اور بغداد میں امریکی سفارت خانے نے گذشتہ روز جمعے کی شام الگ الگ بیانات میں کہا کہ "عراق اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم ورک کے تحت ایک اعلیٰ مشترکہ رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے"۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "عراق کی اس ضمانت میں حمایت کی جائے گی کہ اس کی سرزمین، فضائی حدود اور علاقائی پانی اس کے اپنے یا پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بننے کے لیے استعمال نہ ہوں"۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے ہی فضائی دفاعی نظام اربیل کی فضائی حدود میں ڈرونز کو روک رہا ہے، جہاں ایک بڑا امریکی قونصل خانہ بھی موجود ہے۔ دوسری جانب ایران نواز عراقی مسلح تنظیمیں روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں "امریکی اڈوں" پر حملوں کا اعلان کرتی ہیں۔
اسی طرح بغداد میں امریکی سفارت خانے کو بھی ایک سے زائد مرتبہ میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ اس کے علاوہ الحشد الشعبی کے مراکز اور تہران نواز عراقی مسلح تنظیموں کے ٹھکانوں پر بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا جاتا ہے۔