سڑکوں اور عوامی چوکوں پر بے گھر لبنانی لوگ (اے ایف پی)
لبنان میں اسرائیلی حملوں سے مرنے والے 1200 سے بڑھ گئے، بچے اور طبی عملہ شامل
لبنان میں اسرائیلی حملوں سے مرنے والے 1200 سے بڑھ گئے، بچے اور طبی عملہ شامل
لبنان کی وزارتِ صحت نے اطلاع دی ہے کہ دو مارچ کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں بتایا کہ 29 مارچ تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1238 ہو گئی ہے جن میں 52 طبی کارکن اور 124 بچے شامل ہیں۔ اسی طرح زخمیوں کی تعداد 3543 تک پہنچ گئی ہے۔
حزب اللہ سے وابستہ طبی ادارے نے اعلان کیا کہ اتوار کو جنوبی لبنان میں ان کی ایک ایمبولینس پر اسرائیلی حملے میں ایک طبی کارکن اور ایک زخمی شخص ہلاک ہو گئے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایک بار پھر لبنان میں ایمبولینسوں اور طبی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے حزب اللہ پر انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگادیا۔
یہ دھمکی جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں نو طبی کارکنوں کی ہلاکت کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 50 سے زیادہ طبی کارکن اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں طبی ادارے اور حزب اللہ کی حلیف تحریک امل سے وابستہ ’’ کشافۃ الرسالۃ الاسلامیہ ‘‘ کے نو طبی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس نے مارچ میں لبنان میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کی ہلاکتوں کی دوسری بڑی تعداد ریکارڈ کی ہے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوئی تھی، اس کے بعد سے یہ دوسری بڑی تعداد ہے۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں حزب اللہ پر ایمبولینسوں کے بڑے پیمانے پر فوجی استعمال کا الزام لگایا اور متنبہ کیا کہ وہ ان تنصیبات اور ایمبولینسوں کے ذریعے کی جانے والی کسی بھی فوجی سرگرمی کے خلاف کارروائی کرے گی۔
دریں اثنا بیروت میں ان تین صحافیوں کی تدفین کی گئی جو ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعے کی لبنانی حکام نے شدید مذمت کی اور صدرِ مملکت نے اسے ایک کھلم کھلا جرم قرار دیا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (سی پی جے ) نے 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے 11 صحافیوں کے قتل کیے جانے کی دستاویزی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے جنوبی لبنان پر فضائی حملے جاری ہیں۔ حزب اللہ نے سرحد کے دونوں جانب فوجی ٹھکانوں اور فوجیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے ایک فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جو حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک پانچویں ہلاکت ہے۔ مزید برآں اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے شام کی جانب سے جبل الشیخ کے راستے جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کیا جس میں پیادہ دستوں نے برف باری کے دوران پہاڑ چڑھ کر سرحد عبور کی جس کا مقصد علاقے کی چھان بین اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا تھا۔ یاد رہے اسرائیل نے 2024 کے آخر میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جبل الشیخ کے شامی دامن پر قبضہ کر لیا تھا اور گولان کے بفر زون میں اپنی موجودگی کو وسعت دی ہے۔ گولان کے کے بڑے حصوں پر وہ پہلے ہی قابض تھی۔
مشرقِ وسطیٰ میں یہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت لبنان تک پہنچی جب تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے امریکی اور اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی مرشدِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ اسرائیل لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں زمینی مداخلت کے ذریعے جواب دے رہا ہے۔