تہران میں زور دار دھماکے (ایرانی میڈیا)
اسرائیل کے تہران پر حملے... بندر عباس میں شدید دھماکے
اہواز میں ایرانی پاسداران انقلاب کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا
ایرانی میڈیا نے آج جمعرات کی صبح دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں بشمول شہر کے جنوب مغربی حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی ہے، تاہم دھماکوں کی نوعیت یا نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
اسی دوران ملک کی اہم ترین تزویراتی بندرگاہوں میں سے ایک، بندر عباس میں بھی شدید دھماکوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
علاوہ ازیں ایرانی میڈیا نے ملک کے جنوبی شہر اہواز میں شدید بمباری کی اطلاع دی ہے، جس کے ساتھ ہی وہاں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعات ایران کے اندرونی علاقوں میں ہونے والے حملوں کی شدت میں واضح اضافے کی نشان دہی کرتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شیراز شہر میں "بسیج" فورسز کے ایک مرکز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ قشم میں سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم نقصانات کے حوالے سے اب تک درست معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایرانی دارالحکومت تہران میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک وسیع لہر شروع کی ہے۔
ٹیلی گرام پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فضائی حملوں میں وسطی تہران میں فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں اسلحہ سازی کے تقریبا 15 مقامات شامل ہیں، جن میں ایرانی وزارت دفاع کا ایک مرکزی کمپلیکس بھی شامل ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں طیارہ شکن میزائل تیار کرنے والی تنصیبات، ڈرون تیار کرنے والے مراکز، دفاعی فضائی نظام، لانچنگ پیڈز اور میزائل ذخیرہ کرنے کی جگہیں شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا کہ اس نے صرف گذشتہ دو دنوں کے دوران ایرانی حکومت سے وابستہ تقریباً 400 اہداف پر حملے کیے ہیں، جو حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران اب تک کے سب سے بڑے اعلانیہ حملوں میں سے ایک ہیں۔