ایرانی فوج کے سربراہ امير حاتمی (آرکائیو فوٹو - روئٹرز)
ایرانی فوج کے سربراہ کا افواج کو زمینی حملے کے منظرنامے کے لیے تیار رہنے کا حکم
حاتمی نے مخالفین کی نقل و حرکت کی انتہائی درستی اور مکمل احتیاط کے ساتھ نگرانی کرنے کی ہدایت کی
ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی زمینی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حملے کی صورت میں "دشمن کی فوج کا کوئی بھی اہل کار زندہ نہیں بچے گا"۔
حاتمی نے آج جمعرات کے روز فیلڈ کمانڈرز کو ہدایات جاری کیں، جس میں انہوں نے مخالفین کی نقل و حرکت کی "انتہائی درستگی اور مکمل احتیاط" کے ساتھ نگرانی کرنے اور مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "حملے کے مختلف منظرناموں کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے مناسب منصوبے تیار اور نافذ کیے جائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنایا جا سکے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد "ملک سے جنگ کے سائے ختم کرنا اور تمام شہریوں کے لیے مکمل سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے"۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی عوام کی سکیورٹی کی قیمت پر کسی بھی محفوظ علاقے کے وجود کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا نے خاموش فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں حاتمی کو تین دیگر فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک کمرے میں اور تقریباً بارہ دیگر افراد کے ساتھ ویڈیو کال پر دیکھا جا سکتا ہے۔ روئٹرز نیوز ایجنسی ابھی تک اس فوٹیج کی فلم بندی کی تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع "اپنے اختتام کے قریب ہے" اور یہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، لیکن خلیج میں اضافی امریکی افواج کی متوازی تعیناتی نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاریاں جاری ہو سکتی ہیں۔