یمن کے شہر المخا میں ایرانی جارحیت کے خلاف بڑا عوامی مظاہرہ، خلیجی ممالک سے اظہارِ یکجہتی

مظاہرین کا خطے میں ایرانی منصوبوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی ساحلی شہر المخا میں ہفتہ چار اپریل بہ روز ہفتہ ایک عظیم الشان عوامی مظاہرہ ہوا جس میں صوبہ تعز اور الحدیدہ کے مغربی ساحلی اضلاع سے ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ یہ مظاہرہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور خطے کی سکیورٹی و استحکام کو نشانہ بنانے والی ایرانی جارحیت کی مذمت میں کیا گیا۔

متعدد سیاسی حلقوں کی اپیل پر منعقد ہونے والے اس مظاہرے میں شریک شہریوں نے برادر ممالک کی حمایت اور خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی خطرے کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب یا خلیجی ممالک کی سکیورٹی کو نشانہ بنانا براہ راست عرب قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔

مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے خطے میں ایرانی منصوبے کو مسترد کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ خلیجی ممالک کی خود مختاری اور استحکام کو لاحق خطرات کے خلاف ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے امن کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی مداخلت کو روکنے کے لیے سخت موقف اختیار کرے۔

مظاہرے کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں شرکاء نے خلیجی ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں علاقائی و بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

احتجاجی مظاہرے کے آخر میں جارہ بیان میں اس بات پر زور دیاکہ مغربی ساحل کے عوام خلیجی ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور ایرانی اشتعال انگیزی کے مقابلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے یمن میں جاری مداخلتوں کا ہی تسلسل ہیں۔

بیان میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ عرب قومی سلامتی کا دفاع، بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ اور خطے میں ایرانی پھیلاؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بیان کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثی گروہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا گیا۔ اس میں واضح کیا گیا کہ آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کی سکیورٹی وہ قومی اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اعلامیے میں حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں کے غیور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ایرانی مداخلت کو مسترد کر دیں اور جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ اس کے ساتھ ہی صدارتی قیادت کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور تہران کے تعاون سے قائم حوثی قبضے سے بقیہ صوبوں کو آزاد کرانے کے لیے کام مکمل کرے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران مأرب، تعز، المہرہ، سیئون اور المکلا سمیت یمن کے کئی شہروں میں اسی نوعیت کے عوامی مظاہرے اور احتجاجی اجتماعات منعقد ہو چکے ہیں۔ ان مظاہروں کا مقصد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت، خلیجی ممالک اور اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور یمن کو علاقائی تنازعات میں دھکیلنے کی کوششوں کو مسترد کرنا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں