حميدة أفشار (الصورة من حسابها على إنستغرام قبل حذفه)

امریکہ میں گرفتار دو ایرانی خواتین کا قاسم سلیمانی سے کوئی تعلق نہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی دو رشتہ دار خواتین کی گرفتاری کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ان دونوں ایرانی خواتین کا قاسم سلیمانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ گرفتار کی گئی دونوں خواتین کا پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔ دوسری جانب قاسم سلیمانی کی بیٹیوں نرگس اور زینب نے بھی تصدیق کی ہے کہ فوجی کمانڈر کے خاندان اور رشتہ داروں نے کبھی امریکہ میں رہائش اختیار نہیں کی۔

حمیدہ اور ان کی بیٹی

امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ ہفتہ کی شام اعلان کیا تھا کہ امریکی وفاقی افسران نے سلیمانی کی دو رشتہ دار خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کی مستقل قانونی رہائش (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حمیدہ سلیمانی افشار (سلیمانی کی بہن) اور ان کی بیٹی سارینا صدرات حسینی امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔

وزارت نے ان دونوں خواتین کی گرفتاری کے مقام کا انکشاف نہیں کیا تاہم یہ بتایا کہ انہیں جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ کہ حمیدہ لاس اینجلس میں پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں جس کی انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تشہیر کی تھی جو حال ہی میں حذف کر دیا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حمیدہ نے ایرانی حکومت کی حمایت کی اور اس کے پروپیگنڈے کو فروغ دیا اور ان کے شوہر کے امریکہ داخلے پر پابندی ہے۔

محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ روبیو نے رواں ماہ کے آغاز میں آنجہانی ایرانی سیاست دان علی لاریجانی کی بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی اور ان کے شوہر سید کلانتر معتمدی کی قانونی حیثیت بھی منسوخ کر دی تھی اور یہ دونوں امریکہ چھوڑ چکے ہیں اور مستقبل میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکی میڈیا میں ان دونوں خواتین کی تصاویر سلیمانی کی رشتہ داروں کے طور پر گردش کر رہی ہیں، امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی کوئی تصویر جاری نہیں کی۔

واضح رہے قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران بغداد میں ایک امریکی فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ علی لاریجانی مارچ 2026 کے وسط میں امریکہ اور اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ یاد رہے ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران تارکین وطن کی بے دخلی کی کوششوں میں تیزی لائی ہے اور انہیں خطرہ قرار دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں