ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم (اے ای او آئی) کے سربراہ محمد اسلامی 15 ستمبر 2025 کو ویانا، آسٹریا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ہیڈ کوارٹر میں ایجنسی کی جنرل کانفرنس کے افتتاح سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
ایران کا اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے پر عدم فعالیت کا الزام
ادارے کو امریکی اسرائیلی حملوں کے خطرے سے خبردار کیا
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی عدم فعالیت سے بوشہر پاور پلانٹ جیسی ایٹمی تنصیبات کے خلاف "جارحیت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے"، یہ بات ایران کے ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے پیر کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ایک خط میں کہی۔
اسلامی نے کہا کہ ایران کے واحد فعال جوہری پاور پلانٹ کو اب تک چار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے اور چار اپریل کے تازہ ترین حملے میں سکیورٹی عملے کا ایک رکن ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حملوں سے آپریٹنگ ری ایکٹر سے تابکار مواد کے اخراج کا خطرہ ہے اور لوگوں، ماحولیات اور ممالک کے لیے "ناقابلِ تلافی نتائج" ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور ایجنسی کی طرف سے "فیصلہ کن کارروائی کی کمی" پر تنقید کرتے ہوئے کہا،محض تشویش کا اظہار ناکافی ہے اور اس سے مزید حملوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔