عراقجي وويتكوف (العربية.نت)

پاکستان فائر بندی کی تجویز پر جواب کا منتظر، ایران کا پہلا ردِ عمل آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایک معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت کے بعد، جس کے بارے میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ کل منگل کی شام ختم ہو رہی ہے، ایک با خبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کو جنگ بندی کا ایک منصوبہ موصول ہوا ہے جو غالباً آج پیر سے نافذ العمل ہو سکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ذریعے نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے اس منصوبے کی منظوری آج ہی ہونا ضروری ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذریعے نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اس منصوبے یا تجویز پر اتفاق کی صورت میں فوری طور پر فائر بندی ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دنوں کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تجویز میں یہ شامل ہے کہ اہم بحری گزرگاہ کھولنے کے بدلے میں ایران جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہو جائے گا، اس پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور اس کے منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں ذریعے نے مزید کہا کہ پاکستان نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا ہے جو رات کے وقت ایران اور امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ دو مراحل پر مبنی ہے، جس کا آغاز فوری فائر بندی سے ہوگا اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ طے پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "تمام نکات پر آج ہی اتفاق ہونا چاہیے"۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت کی شکل دی جائے گی اور یہ عمل پاکستان کے ذریعے حتمی طور پر انجام پائے گا جو ان مذاکرات میں رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذریعے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے کہا کہ "ہمارا ماننا ہے کہ امریکہ مستقل فائر بندی نہیں چاہتا"۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر راضی نہیں ہوگا۔

مزید برآں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران فیصلے کے لیے کسی بھی الٹی میٹم یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تجویز موصول ہو گئی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل کئی بار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ان کا ملک عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا، بلکہ وہ دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت کے ساتھ مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی (جہاں سے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے) تو پورے ایران میں تباہی مچا دی جائے گی اور پلوں اور توانائی کی تنصیبات پر بم باری کی جائے گی۔

ٹرمپ نے ایرانی فریق کو کل منگل کی شام تک کی مہلت دی ہے جس کے بعد ان کے مطابق "جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے"۔

ادھر ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایرانی توانائی کے مراکز پر بم باری کے لیے واشنگٹن کی جانب سے گرین سگنل کا منتظر ہے۔ انھوں اشارہ کیا کہ منصوبہ اور اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں