Smoke rises as people gather and rescuers work at the site of an Israeli strike in Beirut, Lebanon, April 8, 2026. Picture taken with a mobile phone. REUTERS/Stringer
ایران کا جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے پر زور ... امریکہ کا انکار
لبنان میں جنگ بندی تہران کے منصوبے کی "بنیادی شرائط" میں سے ایک ہے : پزشکیان
لبنان میں حملوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ممکنہ طور پر ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گذشتہ روز طے پانے والے اس معاہدے کے فوراً بعد بدھ کو اسرائیل نے لبنان پر خون ریز حملے کیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ لبنان میں جنگ بندی تہران کے اس دس نکاتی منصوبے کی "بنیادی شرائط" میں سے ایک ہے جو امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی بنیاد ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکروں سے ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی قبولیت اس کی ذمہ داری اور تنازعات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی منصوبے کو مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد قرار دیا تھا۔ پزشکیان نے فرانس کے ضامن کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور امریکہ پر اپنے وعدوں کے احترام کے لیے دباؤ ڈالے۔ یہ گفتگو دو فرانسیسی شہریوں کی ایران سے رہائی اور پیرس واپسی کے بعد ہوئی جنہیں چار سال قبل جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب صدر ماکروں نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان سے گفتگو میں زور دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تب ہی پائیدار ہو سکتا ہے جب اس میں لبنان بھی شامل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل کے جامع مذاکرات میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے والی پالیسیوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو "غیر منطقی" قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق دس نکاتی منصوبے کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا ذکر کیا جن میں بدھ کو 182 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اس نازک معاہدے کو ختم نہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے کبھی بھی لبنان کو اس جنگ بندی کا حصہ بنانے کا وعدہ نہیں کیا تھا، لہٰذا اگر ایران لبنان کی وجہ سے مذاکرات سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب ہوگا۔ وینس کے مطابق اسرائیل نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ توقع کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو تیل کی ترسیل کے لیے کھلا رکھنے کا اپنا وعدہ پورا کرے گا، بصورتِ دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جے ڈی وینس ہفتے کے روز پاکستان میں تہران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے اور وائٹ ہاؤس کے مطابق اسلام آباد میں یہ مذاکرات براہِ راست ہو سکتے ہیں۔