The White House is seen in Washington, Tuesday, April 7, 2026, at 8:00 p.m. EDT. (AP Photo/Rod Lamkey, Jr.)
ایران کا 10 نکاتی منصوبہ وہ نہیں جس پر امریکہ کے ساتھ بات ہو رہی: وائٹ ہاؤس
ایران نے افزدوہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے کا اشارہ دیا، ایک زیادہ معقول منصوبہ تجویز کیا: کیرولین لیوٹ
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک زیادہ معقول منصوبہ تجویز کیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جسے امریکہ نے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔ کیرولین لیوٹ نے انکشاف کیا کہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کر دے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ ایران کی جانب سے شائع کردہ دس نکاتی جنگ بندی کا منصوبہ ان شرائط پر مشتمل نہیں ہے جن پر امریکہ نے جنگ روکنے کے لیے اتفاق کیا ہے۔ اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’ اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ میڈیا میں زیرِ گردش دستاویز اصل فریم ورک نہیں ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نکات کا صرف ایک ہی مجموعہ ہے جسے امریکہ قبول کرتا ہے اور اس پر بند کمرہ اجلاسوں میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے "ٹروتھ سوشل" اکاؤنٹ پر لکھا کہ کئی معاہدے، فہرستیں اور خطوط ان لوگوں کی طرف سے بھیجے جا رہے ہیں جن کا امریکی-ایرانی مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، بہت سے معاملات میں وہ دھوکے باز اور جعلساز ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں۔ ہماری وفاقی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان نکات کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا۔ اہم نکات کا صرف ایک مجموعہ ہے جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہے اور ہم ان مذاکرات کے دوران بند کمرہ اجلاسوں میں ان پر بحث کریں گے۔ یہی وہ نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ مزید مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ اور ایران نے ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے بدھ کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق 00:00 تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو ایران کے توانائی کے شعبے پر بڑے حملے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیش کرنے کے لیے دس نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ کے مطابق کونسل نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے میں کلیدی نکات شامل ہیں، جن میں ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی تنظیم سازی، ایران کے تمام اتحادیوں (پروکسیز) کے خلاف جنگ کا خاتمہ اور خطے کے تمام اڈوں اور مراکز سے امریکی جنگی افواج کا انخلا شامل ہے۔
اس منصوبے میں آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ راہداری پروٹوکول کا قیام بھی شامل ہے جو اس پر ایران کے کنٹرول کی ضمانت دیتا ہے۔ ایران کے نقصانات کے تخمینے کی بنیاد پر اسے مکمل معاوضے کی ادائیگی، تمام ابتدائی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی فنڈز اور اثاثوں کی واگزاری بھی شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان تمام نکات کو سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد میں شامل کیا جائے تاکہ ان معاہدوں کو بین الاقوامی قانون کی شکل دی جا سکے۔
اسی تناظر میں خبر رساں ایجنسی ’’ اے پی ‘‘ نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے جنگ بندی منصوبے کے فارسی ورژن میں افزودگی کی قبولیت کی عبارت شامل کی ہے جو ان انگریزی نسخوں میں موجود نہیں ہے جو ایرانی سفارت کاروں نے صحافیوں میں تقسیم کیے تھے۔
ایک اور تناظر میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بدھ کی شام صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے نائب جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک ٹیم پاکستان بھیجیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کے روز ہوگا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس وفد میں وینس کے علاوہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ کیرولین لیوٹ نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے ایران کے معاملے پر چین کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے دوران نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہا۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو آئل ٹینکرز اور دیگر بحری جہازوں کے لیے کسی بھی قسم کی پابندی بشمول ٹرانزٹ فیس کے بغیر کھولنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی فوری ترجیح آبنائے کو کسی بھی پابندی کے بغیر دوبارہ کھولنا ہے، چاہے وہ ٹرانزٹ فیس ہو یا کچھ اور۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ دیکھا ہے۔
کیرولین لیوٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ لبنان کی صورتحال پر بات چیت جاری رکھیں گے، حالانکہ لبنان ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان، نیز تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ زیرِ بحث رہے گا۔ لیکن اس مرحلے پر لبنان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اب ایران مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔