اس تصویر میں 10 اپریل 2026 کو اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں جنین کے جنوب میں سا-نور کی بستی میں نئے موبائل ہاؤسز (کارواں) کا منظر دکھایا گیا ہے۔ (اے ایف پی)
مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کا حملہ ، ایک اور فلسطینی جاں بحق
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے ہفتہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے ایک اور حملے کے نتیجے میں مزید ایک فلسطینی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہ حملہ دیر جریر نامی گاؤں میں کیا گیا جو رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں 23 سالہ ماجد حمدان جاں بحق ہوگیا۔
وزارت صحت کے مطابق یہودی آبادکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے اس فلسطینی کو ہسپتال لایا گیا لیکن وہ نازک حالت میں تھے لیکن بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے 'وفا' کے مطابق یہودی آبادکار مسلح نو آبادیاتی گروہوں کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں اور انہیں اسرائیلی فوج کا تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے کے نتیجے میں دیر جریر میں یہودی آبادکاروں نے حملہ کیا۔ وہ گاؤں کے مغربی حصے کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے گاؤں کے لوگوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔ تاہم اسرائیلی پولیس یا فوج نے ابھی تک اس واقعے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
1967 سے اسرائیلی قبضے میں چلے آنے والے مغربی کنارے میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکار مسلسل کشیدگی بڑھائے ہوئے ہیں اور فلسطینیوں کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا جا رہا ہے۔ اس عرصے میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
ہفتہ کے روز پیش آنے والے اس تازہ واقعے سے پہلے اسرائیلی یہودی آبادکاروں نے کم از کم 6 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ تاہم یہ چھ فلسطینی 28 فروری سے لے کر اب تک ہونے والے واقعات میں یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔
یاد رہے مغربی کنارے میں 30 لاکھ کے قریب فلسطینی رہتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکومت نے 5 لاکھ یہودیوں کو امریکہ و یورپی ملکوں سے لا کر بسایا ہے۔ جو اب مقامی فلسطینیوں کے لیے ہر روز جان لیوا حملوں کا باعث بن رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے اسی ہفتے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیاں آباد کرنے کی منظوری دی ہے۔ جس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے کیونکہ اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ بین الاقوامی عدالتیں یہودی بستیوں کی آبادکاری کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتی ہیں۔