تعبيرية من اليمن

یمن میں بھوک اور غذائی بحران شدت اختیار کر گیا، اقوام متحدہ کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اعلیٰ اقوامِ متحدہ کی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں انسانی بحران خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے، جہاں 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بنیادی سہولیات کی تیز رفتار تباہی اور امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

یہ بات اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) میں بحران سے نمٹنے کے شعبے کی ڈائریکٹر ایڈیم ووسورنو نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ یمن میں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد یعنی تقریباً نصف آبادی انسانی امداد کے محتاج ہو چکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور بچوں پر پڑ رہا ہے، جبکہ دو تہائی خاندان اپنی روزانہ کی خوراک کم کرنے پر مجبور ہیں، جو بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے پھیلاؤ کی سنگین علامت ہے۔

ووسورنو کے مطابق غذائی قلت کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ 13 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین سنگین صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، جو ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی شدید بحران ہے، کیونکہ ہر پانچ میں سے دو طبی مراکز مکمل طور پر فعال نہیں، جس کے باعث تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ افراد ضروری طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ہیضہ، خسرہ اور ڈفتھیریا جیسی قابلِ علاج بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انسانی امدادی سرگرمیوں کو شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں حوثی حکام کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے 73 اہلکاروں کی حراست، امدادی اثاثوں کی ضبطی اور رسائی پر پابندیاں شامل ہیں، جو بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی عہدیدار نے سلامتی کونسل سے تین اہم مطالبات کیے: زیرِ حراست امدادی کارکنوں کی رہائی، فوری مالی امداد کی فراہمی اور امن عمل کی حمایت۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی حل کے بغیر یمن میں بھوک، بیماری اور انسانی تکالیف کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط عالمی اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ لاکھوں یمنیوں کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں