A satellite image shows the ship movement at the Strait of Hormuz on April 2, 2026, in Space. EUROPEAN UNION/COPERNICUS SENTINEL-2/Handout via REUTERS THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY MANDATORY CREDIT.
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمزایک مرتبہ پھر بند کر دی
ایران نے امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کے اقدام کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو ایک مرتبہ پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بار بار “اعتماد کی خلاف ورزیوں” اور یکطرفہ اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ ایران سے متعلق بحری آمدورفت کو مکمل آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا، اس وقت تک اس اہم آبی گزرگاہ پر سخت نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ایرانی فوجی کمانڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے بحری راستوں پر دباؤ اور ناکہ بندی کے نام پر ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں تہران “بحری قزاقی اور غیر قانونی مداخلت” قرار دیتا ہے، اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی نگرانی کو مزید سخت کرتے ہوئے اسے دوبارہ ایرانی مسلح افواج کے مکمل انتظام میں دے دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اس عالمی تجارتی راستے پر نقل و حرکت کو نئے ضوابط کے تحت منظم کیا جائے گا اور اس کی نگرانی ہر سطح پر سخت رکھی جائے گی، ایران اپنے سمندری مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ کی جانب سے بحری پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے دوبارہ مکمل بندش کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔