مبنى وزارة الخزانة الأميركية - (آيستوك)
ایران پر نئی امریکی پابندیاں، تہران کو ہرمز پر فیس عائد کرنے کے خلاف وارننگ
ایران نے جنگ خاتمے کے لیے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کی نئی تجویز پیش کی ہے
امریکہ نے ایران کی تین ایکسچینج کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے جنگ میں تہران کے مالیاتی ذرائع کو نشانہ بنانے کے سلسلے کا حصہ ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک الگ بیان میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کے بدلے ایرانی حکومت کو فیس ادا کرنے کے سنگین نتائج سے خبردار بھی کیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کرنے والے پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تہران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حتمی خاتمے کے لیے مذاکرات کی ایک نئی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیش کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ ارنا ‘‘ نے مزید تفصیلات بتائے بغیر اطلاع دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی تازہ ترین تجاویز جمعرات کی رات پاکستان کو پیش کر دی ہیں ۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ذریعے نے نیوز ویب سائٹ "ایکسیس" کو بتایا ہے کہ امریکی مندوب سٹیو وِٹکوف نے ایرانی تجویز پر ترامیم بھیجی ہیں جن میں ایٹمی معاملے کو معاہدے میں شامل کیا گیا ہے۔ ذریعے نے بتایا کہ امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ختم ہونے تک اپنی کسی بھی ایٹمی سرگرمی کو دوبارہ شروع نہ کرے۔ امریکہ نے ایران سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ مذاکرات کے تسلسل کے دوران کسی بھی افزودہ یورینیم کو منتقل نہ کرے۔
قیل ازیں "ایکسیس" نے کہا تھا کہ ایران نے واشنگٹن کو پیش کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ثالثوں کو ایک نئی تجویز فراہم کی ہے۔ اس سے پہلے "سی این این" نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران امن کی ایک ترمیم شدہ تجویز پیش کر سکتا ہے اور واضح کیا تھا کہ ثالث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پچھلے ورژن کو مسترد کیے جانے کے بعد ایک نئے جواب کی توقع کر رہے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں۔