24 اپریل 2026 کو تہران میں ایک شخص اپنی موٹرسائیکل پر سوار ایک بل بورڈ کے پاس سے گزر رہا ہے جس میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی طرف سے ہفتے کے روز کہا گیا ہے کہ اب یہ امریکہ کی مرضی ہے کہ وہ مذاکرات کی طرف آنا چاہتا ہے یا واپس کھلی جنگ کی طرف جانا چاہتا ہے۔ جو بھی امریکہ نے فیصلہ کیا وہ ایران کو اس کے لیے تیار پائے گا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے 'آئی آر آئی بی' کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب گیند امریکہ کی کورٹ میں ہے۔ وہ سفارتی راستہ لیتا ہے یا پھر تصادم کی اپروچ اختیار کیے رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا جہاں تک ایران کا تعلق ہے ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے موجود رہے گا۔ کیونکہ ایران نے ہر دو صورتوں کی تیاری کر رکھی ہے۔