النقش

سعودی عرب میں قدیم اسلامی نقش کی دستاویز بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ادارۂ آثارِ قدیمہ نے حائل ریجن میں سمیراء کے جنوب میں واقع مقام ''ضلیع النیص'' میں ایک قدیم اسلامی کتبے کو دستاویزی طور پر محفوظ کیا ہے، جو پہلی صدی ہجری (آٹھویں صدی عیسوی) سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ کتبہ حج کے کوفی راستے ''درب زبیدہ'' کے ایک حصے پر دریافت ہوا ہے اور ادارے کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد آثارِ قدیمہ کا تحفظ اور سعودی عرب کی تہذیبی گہرائی کو اجاگر کرنا ہے۔

یہ کتبہ ایک چھوٹے پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے، جو سمیراء کے جنوبی علاقے میں ایک تاریخی اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔



یہ مقام قدیم حج راستے سے منسلک ہونے کے باعث اہمیت رکھتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خطہ مختلف ادوار میں حجاج کے گزرنے کا راستہ رہا ہے، جس سے قدیم حج راستوں کے جغرافیائی پھیلاؤ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

مذہبی مضمون جو اس دور کی روح کی عکاسی کرتا ہے

یہ کتبہ ایک دینی مضمون رکھتا ہے ،جو اس دور کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں ایک شخص ''ابراہیم بن زیاد'' کے لیے مغفرت کی دعا درج ہے۔

اس کے ساتھ سورۃ البقرہ کی ایک آیتِ کریمہ کے اختتام سے اقتباس بھی شامل ہے، جو ابتدائی اسلامی نقوش کے ایمانی پہلو اور ان کے روحانی و انسانی پیغام کو واضح کرتا ہے۔

یہ تحریر ایک چپٹی گرینائٹ چٹان پر کندہ کی گئی ہے، جس میں کوارٹز کی باریک رگیں بھی موجود ہیں۔ یہ اس علاقے کی ارضیاتی ساخت کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُس زمانے میں دستیاب قدرتی مواد کو ان تاریخی شواہد کی دستاویز بندی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

تھرات کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں

یہ دریافت ہیئتِ التراث کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد مملکت کے مختلف علاقوں میں موجود آثارِ قدیمہ کا سروے، ان کی دستاویزی حفاظت اور انہیں محفوظ بنانا ہے۔

اس کا ایک اہم ہدف ان تاریخی مقامات کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی ہے، کیونکہ یہ انسانی تاریخ اور اس کے مختلف ادوار کے سفر کی زندہ عکاسی کرتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں