من المباحثات الإيرانية الصينية في بكين - 6 مايو 2026 - رويترز
واشنگٹن کی 14 نکات پر مشتمل امن تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں: تہران
ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے
سی این بی سی نیٹ ورک نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ تہران واشنگٹن کی 14 نکات پر مشتمل امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک صرف ایک منصفانہ اور جامع معاہدہ ہی قبول کرے گا۔ عراقچی کے یہ بیانات اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران سامنے آئے جہاں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیجنگ ایک قریبی دوست ہے اور موجودہ حالات میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات میں اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ نے بدھ کو ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ تہران نے دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے مقصد سے دی گئی حالیہ امریکی تجویز کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس تجویز میں کچھ ایسی دفعات شامل ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔
رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ذریعے نے کہا کہ ایران کے خلاف دھمکی آمیز زبان کا استعمال کارگر ثابت نہیں ہوگا اور یہ امریکہ کے لیے صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ بیجنگ تناؤ کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ وانگ یی نے کہا واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ضروری ہیں کیونکہ خطہ ایک فیصلہ کن موڑ سے گزر رہا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا کہ چین دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کی وجہ سے شدید پریشانی محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ ملاقات کی ایک ویڈیو کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ جامع جنگ بندی تک پہنچنے کی اشد ضرورت ہے اور دشمنی کا جاری رہنا ناقابل قبول ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کہ بات چیت اور مذاکرات کے عزم کو برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے واشنگٹن اور تہران پر یہ زور بھی دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین آبنائے میں محفوظ گزر گاہ کے لیے عالمی برادری کی اپیلوں کا جلد جواب دیں گے۔ چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کا قانونی حق حاصل ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "شنہوا" کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے بدھ کی صبح بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" نے اس سے قبل رپورٹ دی تھی کہ عراقچی نے وانگ ای کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
28 فروری کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے عراقچی کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے جو امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو چیلنج کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن تہران کی آمدنی کے ذرائع کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک روزہ دورہ 14 اور 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ چین سے قبل ہو رہا ہے۔
واضح رہے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ پر دباؤ ڈالے اور کہا تھا کہ مجھے امید ہے کہ چینی عراقچی کو وہ بتائیں گے جو اسے بتانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ آبنائے میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ عالمی سطح پر آپ کی تنہائی کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ بیجنگ تنازعے کے بارے میں عام طور پر غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھتا ہے لیکن اس نے ایران کی خودمختاری کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی ہے اور ثالثی کی کوششوں میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔ چین نے بارہا امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھیں اور آبنائے ہرمز میں پابندیاں ختم کریں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی اور 7 اپریل کو امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے باہمی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ 11 اپریل کو ایران اور امریکہ کے وفود نے اسلام آباد میں مذاکرات کیے لیکن متعدد اختلافات کی وجہ سے وہ طویل مدتی تصفیے کے معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ 21 اپریل کو امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ارادے کا اعلان کیا ۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران کا واشنگٹن کی جانب سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اپنے مفادات کے مطابق عمل کرے گا۔