عباس عراقجي (أرشيفية- رويترز)

جب بھی کوئی سفارتی حل پیش کیا جاتا امریکہ مہم جوئی کردیتا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کی شام امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ عباس عراقچی نے دو ایرانی ٹینکروں کے خلاف امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قرار دیا ہے۔ عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام اور وسیع پیمانے پر نتائج کا باعث بن رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شائع ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے بقول جب بھی کوئی سفارتی حل پیش کیا جاتا ہے، امریکہ ایک لاپرواہ فوجی مہم جوئی کر دیتا ہے۔ عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی کبھی بھی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔

مزید برآں انہوں نے اپنے دعوے کے مطابق اشارہ کیا کہ ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ اور لانچ کرنے کی صلاحیت 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ درست عدد 120 فیصد ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

جنگ بندی کی سنگین ترین خلاف ورزی

یہ مذمت آبنائے ہرمز ، جو خلیج عرب اور خلیج عمان کو ملاتا ہے، میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کل ہونے والی جھڑپ کے بعد کی گئی ہے۔ دونوں جانب سے الزامات کا تبادلہ کیا گیا ۔ یہ تبادلہ گزشتہ 8 اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کی سب سے سنگین خلاف ورزی ثابت ہوا۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب توقع ہے کہ تہران جمعہ کو ہی کسی وقت امریکی تجویز پر اپنا جواب دے گا جس سے جنگ کے مستقل خاتمے کی امید ہے۔ ایرانی جوہری معاملے سے متعلق مزید پیچیدہ مسائل پر بعد کے مراحل میں بات چیت کی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دو دنوں کے دوران ایرانیوں کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے کے حوالے سے اپنی پرامیدی کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے کل جھڑپوں کے باوجود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جنگ بندی اب بھی نافذ ہے۔ اپنی طرف سے پاکستان ، جو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، نے جنگ کے مستقل خاتمے کے قریب پہنچنے پر محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ایک باخبر سفارتی ذریعے نے العربیہ کو تصدیق کی ہے کہ کئی مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں