اطالوی بحریہ (Marina Militare) کی جاری کردہ نامعلوم مقام اور تاریخ والی یہ ہینڈ آؤٹ تصویر سمندر میں موجود اطالوی فریگیٹ Virginio Fasan (F 591) کی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بارودی سرنگیں ہٹانے والے جہاز خلیجی علاقے کے قریب بھیج رہے ہیں: اٹلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ خلیج کے قریب دو جنگی جہاز بھیج رہا ہے لیکن خطے میں دیرپا جنگ بندی کی صورت میں انہیں صرف ایک بین الاقوامی مشن کے طور پر تعینات کرے گا۔

پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع گیڈو کروسیٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا ممکنہ مشن قانون سازوں کی پیشگی منظوری سے ہی ہو سکتا ہے۔

شرقِ اوسط تصادم کی بنا پر ایران نے آبنائے کی مؤثر طریقے سے ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کے باعث پوری دنیا کی معیشت متأثر ہوئی ہے، تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی رسد میں خلل پیدا ہوا ہے۔

امریکہ نے ایران پر آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے کا بھی الزام لگایا ہے۔

کروسیٹو نے کہا کہ کسی بھی تعیناتی کے لیے پیشگی شرط موجودہ جنگ بندی نہیں "بلکہ ایک حقیقی، معتبر اور مستحکم جنگ بندی یا اس سے بھی بہتر ایک یقینی امن ہو گا۔"

انہوں نے کہا ہے کہ بارودی سرنگیں ہٹانے والے جہاز کو اس خطے تک پہنچنے میں ہفتوں لگیں گے اور اس لیے اٹلی ان کی "تعیناتی کی پہلے سے تیاری" کر رہا ہے جو ابتدائی طور پر مشرقی بحیرۂ روم اور پھر بحیرۂ احمر تک ہے۔

کروسیٹو نے کہا، "صرف احتیاط کے طور پر ہم دو جہازوں کو آبنائے کے نسبتاً قریب رکھنے کا انتظام کر رہے ہیں۔"

برطانیہ اور فرانس نے عالمی جہازرانی میں مدد کے لیے خطے میں ممکنہ بحری کوششوں پر مذاکرات کی قیادت کی ہے۔

دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ قریبی علاقے میں جنگی جہازوں کی "تعیناتی کی تیاری" کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان شرقِ اوسط جنگ کے خاتمے اور اہم آبی گذرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں