This photograph taken from the southern Lebanese area of Marjaayoun shows smoke rising from the site of an Israeli airstrike that targeted the Kfar Tibnit village in Lebanon, on April 12, 2026. (AFP)
اسرائیل نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کیے، جس سے ایک دن قبل دونوں ممالک نے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا، "آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔"
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے جنوب میں کم از کم پانچ دیہات پر حملوں کی اطلاع دی ہے جس سے پہلے مکین جنوبی شہر صیدا اور دارالحکومت بیروت کی طرف نقل مکانی کر گئے۔
اسرائیلی فوج نے صیدا اور نبطیہ کے نو دیہات کے رہائشیوں کو حملوں سے قبل انخلا کے لیے خبردار کر دیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے سفیروں نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کیے جو دونوں ممالک کے درمیان کئی عشروں بعد ہوئے۔ دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ مذاکرات کی مخالفت کرتی ہے اور 17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں جس کے ایک حصے پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے، اسرائیلی فوج کے خلاف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے ۔
لیکن جمعے کے روز واشنگٹن میں لبنان کے مذاکراتی وفد نے اسرائیل سے جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع کا خیرمقدم کیا۔
لبنانی ایوانِ صدر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، "جنگ بندی میں توسیع اور امریکہ کی سہولت کاری میں سکیورٹی ٹریک کے قیام سے ہمارے شہریوں کو ایک عارضی اطمینان ملا ہے، یہ ریاستی اداروں کو تقویت دیتے اور دیرپا استحکام کی جانب سیاسی راستے کو آگے بڑھاتے ہیں۔"